تحریر: مچل پلٹنک
امریکی ریپبلکنز اب اسرائیل سے نظریں چرا رہے ہیں — چرچوں پر حملے، ایپسٹین سے جڑی اسکینڈلز، اور ماجوری ٹیلر گرین کی اسرائیل کی فوجی امداد ختم کرنے کی کوشش نے اس رجحان کو واضح کر دیا ہے۔
حال ہی میں سی این این کی ایک رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ محض آٹھ برسوں میں امریکہ کے ڈیموکریٹ ووٹرز نے اسرائیل کے بارے میں اپنا نقطہ نظر یکسر بدل دیا ہے۔
2017 میں، ڈیموکریٹس فلسطینیوں کے مقابلے میں اسرائیل سے 13 فیصد زیادہ ہمدردی رکھتے تھے۔ لیکن 2025 میں، اب یہی طبقہ فلسطینیوں سے 43 فیصد زیادہ ہمدردی رکھتا ہے۔ اتنی قلیل مدت میں ایسا شدید ردّ و بدل پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔
یہ دراصل اس رجحان کی تکمیل تھی جو برسوں سے پنپ رہا تھا، خاص طور پر جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے کھلم کھلا ریپبلکن پارٹی کو اپنا اتحادی بنا لیا۔ اس سے پہلے اسرائیل کو امریکی سیاست میں دوطرفہ (بائی پارٹیزن) حمایت حاصل تھی، مگر اب یہ حمایت جماعتی تقسیم کا شکار ہو چکی ہے۔
اب تک اسرائیل کو ریپبلکن اور سینئر ڈیموکریٹ قیادت دونوں کی بھرپور تائید حاصل رہی ہے، جیسا کہ صدر جو بائیڈن کی طرف سے غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگ کی مکمل حمایت سے ثابت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی، جن کا بنیاد پرست کرسچین صیہونی ووٹ بینک بہت طاقتور ہے، اس حمایت کو مزید مضبوط بناتی دکھائی دیتی تھی۔
مگر اب یہ اندازہ غلط ثابت ہو رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اس بات کے شواہد بڑھتے جا رہے ہیں کہ ریپبلکنز میں اسرائیل کے لیے حمایت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
گزشتہ ماہ کوئنی پیاک (Quinnipiac) یونیورسٹی کے ایک سروے میں بتایا گیا کہ 64 فیصد ریپبلکنز اسرائیل سے فلسطینیوں کی نسبت زیادہ ہمدردی رکھتے ہیں۔
یہ تعداد بظاہر زیادہ لگتی ہے، لیکن محض ایک سال قبل یہی شرح 78 فیصد تھی۔ فلسطینیوں کے لیے ہمدردی میں اضافہ نہیں ہوا — اب بھی صرف 7 فیصد ریپبلکنز فلسطینیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ یعنی یہ کمی صرف اسرائیل کے لیے منفی نقطہ نظر کی بڑھتی لہر کی نشاندہی کرتی ہے۔
یہ تبدیلی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں ہے۔
امریکی دائیں بازو میں منفی رجحانات
امریکی دائیں بازو میں اسرائیل کے بارے میں منفی خیالات رکھنے والا ایک طبقہ پہلے سے موجود تھا۔
یہ منفی رویہ عموماً فلسطینیوں سے ہمدردی پر مبنی نہیں ہوتا، بلکہ اس کی جڑیں یا تو عالمی معاملات سے لاتعلقی (آئسولیشن ازم) میں ہوتی ہیں، یا پھر یہودیوں سے نفرت میں، یا ان دونوں کا امتزاج ہوتا ہے۔ حالیہ عرصے میں یہ دونوں رجحانات نمایاں طور پر بڑھے ہیں۔
اگرچہ اسرائیلی فوجی امداد کم کرنے کی ترمیم کو صرف چھ ووٹ ملے، مگر یہ امر چونکا دینے والا تھا کہ یہ تجویز ٹرمپ کے حلقے سے آئی تھی۔
جنسی جرائم میں ملوث بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کے خفیہ مؤکلوں کی فہرست کے گرد پیدا ہونے والا شور ٹرمپ کو بھی لپیٹ میں لے چکا ہے، اور پہلی بار اُن کے MAGA (میگاآمریکا) حلقے میں بھی بداعتمادی کی فضا بن رہی ہے۔
وہ صدر جو ماضی میں ہر اسکینڈل سے محفوظ دکھائی دیتا تھا، اب اس اسکینڈل کی زد میں ہے جسے وہ خود ماضی میں ڈیموکریٹس کے خلاف استعمال کرتا رہا۔
اسی طرح ٹرمپ کے بعض سخت گیر اور نسل پرست حامی بھی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پالیسیوں پر اس سے اختلاف کرنے لگے ہیں۔
فاکس نیوز کے سابق میزبان، ٹَکر کارلسن، جنہوں نے ایک بار عراقیوں کو "قدیم بندر” قرار دیا تھا اور یہودیوں پر غیر قانونی تارکین وطن کے ذریعے "سفید فام امریکہ” کو کمزور کرنے کا الزام لگایا تھا — وہ اب ٹرمپ کی پالیسیوں کے شدید ناقد بن چکے ہیں۔
ایران پر بمباری کے فیصلے پر ٹرمپ کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے کارلسن نے ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز کا مذاق اڑایا، جو اس فیصلے کی اندھی حمایت کر رہے تھے جبکہ انہیں ایران کی صورتحال کا کوئی علم نہیں تھا۔
مارجوری ٹیلر گرین کا اختلاف
ریپبلکن کانگریس وومن مارجوری ٹیلر گرین، جو ماضی میں مختلف سازشی نظریات، اسلاموفوبیا اور یہود دشمنی کے لیے مشہور رہی ہیں، اب اسرائیل کے معاملے پر بھی ٹرمپ سے اختلاف کر رہی ہیں۔
انہوں نے ایک ترمیم پیش کی جو دفاعی بجٹ میں اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائل نظام کے لیے مختص آدھا ارب ڈالر ختم کر دیتی۔ اگرچہ یہ ترمیم مسترد ہو گئی، اور صرف چھ ووٹ حاصل کر سکی، مگر یہ اہم بات ہے کہ اس تجویز کا آغاز خود ٹرمپ کے قریبی حلقے سے ہوا۔
اس تجویز کی حمایت صرف ایک اور ریپبلکن، کانگریس مین تھامس میسی نے کی، جو ٹرمپ کے قریب نہیں سمجھے جاتے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ترمیم کی حمایت چار ترقی پسند ڈیموکریٹس نے بھی کی۔ لیکن جب مارکسی ترقی پسند ڈیموکریٹ الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے مخالفت کی — یہ دلیل دیتے ہوئے کہ آئرن ڈوم ایک دفاعی نظام ہے — تو ان کے اپنے حلقے میں اس پر ناراضی ظاہر ہوئی۔
تاہم یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کی فوجی امداد کم کرنے کی تجویز اب نہ صرف دونوں جماعتوں میں گردش کر رہی ہے بلکہ خود ریپبلکنز سے اٹھ رہی ہے۔
کلیسا پر اسرائیلی حملے
اس انتشار کے دوران اسرائیل نے غزہ شہر میں ہولی فیملی کیتھولک چرچ پر حملہ کیا۔ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک یہ غزہ میں چھٹا کلیسا ہے جسے نشانہ بنایا گیا، لیکن اس بار امریکہ نے بھی توجہ دی۔
اس سے چند روز قبل مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں طَیبہ میں ایک اور چرچ القدیس جورج کو آبادکاروں نے آگ لگانے کی کوشش کی۔ پانچویں صدی عیسوی سے قائم یہ تاریخی چرچ شدید نقصان کا شکار ہوا۔
اسرائیلی حکام اس واقعے پر ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں، کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ آبادکار آگ بجھانے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ حملہ آور "نامعلوم” ہیں۔ لیکن اسرائیلی آبادکاروں کی فلسطینی مسیحیوں کے ساتھ بدسلوکی کے طویل ریکارڈ کے باعث اس موقف پر کم ہی لوگ یقین رکھتے ہیں۔
امریکہ کے اسرائیل میں سفیر مائیک ہکابی نے کلیساؤں پر ان حملوں کی مذمت کی — یہ غیر معمولی بات ہے کیونکہ وہ ماضی میں اسرائیل کے ہر جرم کا دفاع کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا:
"یہ کوئی مسجد ہو، چرچ یا سینیگاگ — کسی بھی عبادت گاہ کی بے حرمتی ناقابل قبول ہے۔”
یہ وہی ہکابی ہیں جنہوں نے غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں تباہ شدہ 960 سے زائد مساجد پر کبھی ایک لفظ نہیں بولا۔
لیکن ہولی فیملی چرچ پر حملہ امریکی دائیں بازو میں گونج پیدا کر چکا ہے۔ کئی قدامت پسند مبصرین نے اسرائیل کے اس اقدام پر ناراضی اور غصے کا اظہار کیا، اور بہت کم لوگ یہ ماننے کو تیار ہیں کہ یہ حملہ "آرٹلری کی غلطی” تھی۔
امریکی سینیٹر لنزی گراہم، جو ہمیشہ اسرائیل کے حامی رہے، نے بھی تشویش ظاہر کی:
"جب غزہ اور مغربی کنارے میں مسیحی چرچ زیرِ حملہ ہوں، تو یہ رکنا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا:
"مسیحی مقدس مقامات کی بے حرمتی سے اسرائیل کو امریکہ میں حمایت برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔”
بااثر دائیں بازو کے مبصر مائیکل نولز نے کہا:
"تم میرا ساتھ کھو رہے ہو۔ اسرائیلی حکومت شدید غلطی کر رہی ہے۔ یہ ہولناک جنگ ختم ہونی چاہیے۔”
ایپسٹین اسکینڈل کی بازگشت
ایک اور مسئلہ جس نے ٹرمپ کے ووٹ بینک میں دراڑ پیدا کی، وہ جیفری ایپسٹین اسکینڈل ہے — اور اس کے ساتھ ٹرمپ کی ذاتی دوستی۔
ایپسٹین 2019 میں اپنے جرائم کے باعث جیل گیا، اور کچھ ہی ہفتوں بعد پراسرار حالات میں مردہ پایا گیا۔ اگرچہ اسے خودکشی قرار دیا گیا، مگر بہت سے لوگ اسے قتل مانتے ہیں۔
ایپسٹین نے کم عمر لڑکیوں کو جنسی استحصال کے لیے اسمگل کیا، اور انہیں دنیا کے بااثر افراد کے حوالے کیا۔ اگرچہ اس بارے میں بہت سی افواہیں غیر مصدقہ اور مبالغہ آمیز ہیں، مگر اس کے اثرات گہرے ہیں۔
ایپسٹین کی مبینہ "کلائنٹس لسٹ” زیر بحث ہے، اگرچہ اس فہرست کا وجود بھی یقینی نہیں۔
ٹرمپ اور ان کے حمایتی، جیسے ایلن ڈرشوِٹز، ماضی میں دعویٰ کرتے رہے کہ اس فہرست میں نمایاں ڈیموکریٹس شامل ہیں۔ ٹرمپ مخالفین نے اس کے برعکس ایپسٹین سے ان کی دوستی، ویڈیوز، اور تصویری شواہد کو دلیل بنایا کہ ٹرمپ بھی ملوث ہیں۔
صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتا ہے ایپسٹین کی ساتھی، گِزلین میکس ویل، جو اسرائیلی انٹیلیجنس موساد سے منسوب رابرٹ میکس ویل کی بیٹی تھی۔ رابرٹ کو اسرائیل میں قومی اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا، جس کی آخری رسومات میں اسرائیلی اعلیٰ قیادت شریک ہوئی۔
ایپسٹین اور اسرائیل کے تعلق پر اب دائیں بازو میں بات ہونے لگی ہے۔
قدامت پسندوں میں دراڑ
یہ تمام عوامل اسرائیل پر امریکی دائیں بازو میں گہری ہوتی دراڑ کا پتہ دیتے ہیں۔ اپریل میں پیو ریسرچ کے ایک سروے میں بتایا گیا کہ 18 سے 49 سال کے 50 فیصد ریپبلکنز اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں — جو 2022 کے مقابلے میں 15 فیصد اضافہ ہے۔
یقیناً میریم ایڈلسن جیسے ریپبلکن ڈونرز اور اسرائیل نواز لابی اب بھی کروڑوں ڈالر خرچ کریں گے تاکہ اسرائیل کے لیے حمایت قائم رکھی جا سکے۔ لیکن سیاست میں پیسہ تبھی کارآمد ہوتا ہے جب وہ ووٹ خرید سکے۔
نیتن یاہو نے برسوں قبل یہ شرط لگائی تھی کہ اگر وہ فلسطینیوں پر ظلم و ستم میں مزید شدت لائیں گے اور ہمسایہ ممالک پر زیادہ جارحانہ ہوں گے، تو انہیں ریپبلکنز اور کانگریس کے دونوں دھڑوں میں موجود اسرائیل نواز لابی کی حمایت ملتی رہے گی — حتیٰ کہ اگر وہ ڈیموکریٹ ووٹرز کھو دیں۔
آج یہ شرط بری طرح الٹتی دکھائی دیتی ہے۔

