فوج کے تجربہ کار اہلکار انتھونی اَگوئیلار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپن آنکھوں سے دیکھا کہ اسرائیلی افواج نے بھوکے فلسطینیوں پر توپوں اور مارٹر کے گولے برسائے۔
تحریر: میرا الادم
ایک سابق امریکی اسپیشل فورسز افسر نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل اور امریکہ کے حمایت یافتہ "غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن” (GHF) میں اپنے عہدے سے استعفیٰ اس وقت دیا جب انہوں نے محصور غزہ میں امداد کے متلاشی شہریوں پر گولہ باری ہوتے ہوئے دیکھی۔
جمعے کو بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لیفٹیننٹ کرنل انتھونی اَگوئیلار نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری عسکری زندگی میں کبھی ایسی "بے رحمی، اندھی اور غیر ضروری طاقت کا استعمال کسی نہتے، بھوکے عوام کے خلاف نہیں دیکھا” جیسا کہ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی افواج اور امریکی ٹھیکے داروں کے ہاتھوں دیکھا۔
"میں نے جن تمام جنگی علاقوں میں خدمات انجام دیں، ان میں کبھی ایسی صورتحال نہیں دیکھی، سوائے غزہ کے، جہاں یہ سب اسرائیلی افواج اور امریکی کانٹریکٹرز کے ہاتھوں ہوا،” انہوں نے کہا.
"بلاشبہ، میں نے اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے ہاتھوں جنگی جرائم ہوتے ہوئے دیکھے۔ توپوں کے گولے، مارٹر شیل، اور ٹینک کے گولے نہتے شہریوں پر داغنا ایک جنگی جرم ہے،” اَگوئیلار نے مزید کہا.
انتھونی اَگوئیلار، جو امریکی فوج کی "گرین بیریٹس” اسپیشل فورسز کے تجربہ کار رکن رہ چکے ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اسرائیلی فوجیوں اور امریکی ٹھیکے داروں نے بھوک سے نڈھال اور غیر مسلح فلسطینیوں پر براہِ راست گولیاں، توپیں، مارٹر اور ٹینک شیل داغے، جو صرف امداد کے منتظر تھے۔
انہوں نے ایک واقعے کی تفصیل بیان کی جس میں ایک اسرائیلی "مرکاوا” ٹینک نے نہتے شہریوں پر فائرنگ کی اور ایک گاڑی کو تباہ کر دیا جو امداد کے مقام سے دور جا رہی تھی۔
اَگوئیلار نے یہ بھی بتایا کہ ہجوم کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ان پر مارٹر شیل داغے گئے۔
انہوں نے GHF کے منصوبے کو چلانے والے افراد کو "نو آموز، ناتجربہ کار اور غیر تربیت یافتہ” قرار دیا، اور کہا کہ ان لوگوں کو اس پیمانے کے آپریشنز چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔
بدھ کو 100 سے زائد امدادی تنظیموں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے مارچ کے اوائل میں غزہ میں انسانی امداد کی بندش اور مئی کے آخر میں GHF کے ذریعے ناکافی امداد کی فراہمی کے بعد پورے غزہ میں "اجتماعی قحط” پھیل چکا ہے۔
منگل کو مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا کہ قحط پر عالمی شہرت یافتہ ماہر، پروفیسر ایلکس ڈی وال نے اسرائیل پر غزہ کے فلسطینیوں کو "نسل کش قحط” میں مبتلا کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جو اس وقت جاری مہلک محاصرے کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔
بازاروں سے بنیادی غذائی اشیاء غائب ہو چکی ہیں، خاندان کئی کئی دن بغیر خوراک کے گزارنے پر مجبور ہیں، اور سڑکوں پر بھوک اور تھکن سے گرنے والے افراد کے مناظر روز کا معمول بن چکے ہیں۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق، مارچ سے دوبارہ نافذ اسرائیلی محاصرے کے بعد کم از کم 127 فلسطینی، جن میں 85 سے زائد بچے شامل ہیں، قحط کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اسی دوران، GHF کی جانب سے چلائے جانے والے امدادی مراکز، جہاں اسرائیلی فوجی اور امریکی سیکیورٹی کانٹریکٹر تعینات ہیں، وہاں امداد کے حصول کے دوران ایک ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

