جمعہ, فروری 20, 2026
ہومنقطہ نظریورپ کی پابندیوں کی لت لاعلاج ہو چکی ہے

یورپ کی پابندیوں کی لت لاعلاج ہو چکی ہے
ی

سیموئیل گیڈیس

دنیا کے ازسرِنو ترتیب پاتے نظام میں یورپ کی عالمی اثرورسوخ کے سکڑتے ہوئے دائرے کا ازالہ کرنے کی کوششیں درحقیقت اس کے حاشیے پر دھکیل دیے جانے کے عمل کو مزید تیز کر رہی ہیں۔

یہ کہا جاتا ہے کہ یورپ میں دو قسم کے ممالک ہوتے ہیں: چھوٹے ممالک، اور وہ جو ابھی تک یہ نہیں مانے کہ وہ چھوٹے ہیں۔ جولائی 2025 تک یورپ کا بیشتر خطہ تاحال اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔

روس اور یوکرین کے مابین مسلسل جاری تھکا دینے والی جنگ کو تین برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، اور یورپی یونین نے، بالآخر صدر ٹرمپ کی ماسکو پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم کی حمایت حاصل کرنے کے بعد، روس کے خلاف پابندیوں کے سب سے سخت دور کا اعلان کیا ہے۔ اس 18ویں دور میں، یورپی یونین نے توانائی برآمد کرنے والے روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے سیاہ فہرست میں شامل جہازوں کی تعداد 444 تک بڑھا دی ہے، جنہیں یورپی بندرگاہوں اور انشورنس سروسز تک رسائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ رکن ممالک کو مزید 22 روسی بینکوں سے لین دین سے بھی روک دیا گیا ہے، جس کے بعد پابندیوں کی زد میں آنے والے بینکوں کی مجموعی تعداد 44 ہو چکی ہے، جس کا مقصد ماسکو کے عالمی مالیاتی راستوں کا گلا گھونٹنا ہے۔

دوہری استعمال کی ٹیکنالوجی پر برآمدی پابندیوں کے دائرے کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ برسلز نے چین، ترکی اور 11 دیگر ممالک کی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں جو روس کو پابندیاں چُھپانے میں معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ یورال خام تیل کی قیمت پر مزید کمی کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی شکل میں روسی توانائی کی یورپی منڈی میں رسائی کو مکمل طور پر بند کیا جا سکے۔

اس کے پیچھے جو تکبر پوشیدہ ہے وہ یہی ہے کہ ایک درآمد کنندہ خطہ ہونے کے باوجود یورپ یہ طے کرے گا کہ روسی توانائی کی قیمت کیا ہو گی۔ گزشتہ ہفتے کے اقدامات درحقیقت یورپ کی اپنی معاشی صلاحیت کو مستقل نقصان پہنچانے کا سبب بنے ہیں، جبکہ روس نے سادہ الفاظ میں اپنی توجہ دیگر خریداروں کی جانب منتقل کر دی ہے۔

یورپی یونین کی نئی پابندیوں کی تیاری کے ساتھ ہی اس کے دو سب سے بڑے رکن ممالک، جرمنی اور فرانس، برطانیہ کے ساتھ مل کر ایک اور اہم توانائی فراہم کنندہ ملک کے خلاف بھی زیادہ سے زیادہ دشمنی پر مبنی مہم میں مصروف رہے۔ ایران کے خلاف اسرائیل کی جانب سے شروع کی جانے والی 12 روزہ جنگ کی مذمت کرنے کے بجائے، یورپی رہنما، خاص طور پر جرمن چانسلر میرٹس، کھل کر اسرائیلی جارحیت کی حمایت میں سامنے آ گئے اور اعتراف کیا کہ اسرائیل ان کے "گندے کام” سرانجام دے رہا ہے، یعنی اسلامی جمہوریہ ایران کو کمزور کر رہا ہے۔

جنگ بندی کے آغاز پر، جب ایران کی جوہری تنصیبات اور سائنسدانوں پر حملے کیے جا چکے تھے، فرانسیسی اور برطانوی وزرائے خارجہ نے تہران کو مشتعل کرنے کے انداز میں دھمکی دی کہ اگر ایران نے کوئی جوابی اقدام کیا تو وہ ناکام ہو چکے جوہری معاہدے یعنی JCPOA کے "اسنیپ بیک” میکانزم کو فعال کر دیں گے۔ اس میکانزم کے تحت معاہدے پر دستخط کرنے والا کوئی بھی ملک 2015 کے بعد اٹھائی گئی اقوام متحدہ کی پابندیوں کو ازسرِنو نافذ کرنے کا مطالبہ یکطرفہ طور پر کر سکتا ہے۔ چونکہ JCPOA اکتوبر میں خود بخود ختم ہونے والا ہے، اس لیے یورپی ریاستوں کے پاس اسنیپ بیک متحرک کرنے کی کھڑکی تیزی سے بند ہوتی جا رہی ہے۔

اسی معاملے پر ایران اور یورپی تین ممالک (E3) کے درمیان مذاکرات کا اعلان کیا گیا ہے، جو آئندہ دنوں استنبول میں منعقد ہوں گے۔ چونکہ یورپ اپنی عالمی ساکھ کے زوال کی تلافی معاشی جنگ کے ذریعے کرنے اور امریکی جغرافیائی سیاسی مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح دینے کے لیے بےتاب ہے، اس لیے اس بات کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں کہ یہ تینوں ممالک اس معاہدے کی پابندی کرنے والے تہران کو "سزا” دینے کے موقع سے گریز کریں گے۔

اگر یورپ واقعی اسنیپ بیک کی دھمکی پر عمل کر گزرا، تو وہ چند مہینوں کے اندر دو ایسے ممالک کے ساتھ تعلقات بحالی کے تمام امکانات خود ہی تباہ کر بیٹھے گا، جو بآسانی اسے اس کے خود ساختہ معاشی زوال سے نکال سکتے تھے۔ اگرچہ اس اقدام سے ماسکو اور تہران دونوں کو نقصان پہنچے گا، لیکن ان کے ذہنوں میں یہ تصور پختہ ہو جائے گا کہ انہیں مغربی کنٹرول سے آزاد معاشی راستے اور ادارے تشکیل دینا ناگزیر ہو چکے ہیں۔

ایران کے ذریعے روس کو بحر ہند سے جوڑنے والا "بین الاقوامی شمال-جنوب اقتصادی راہداری” (INSTC) اس قسم کے تعاون کی نمایاں ترین مثال ہے۔ اس راہداری کو 2022 میں یوکرین میں آپریشنز کے آغاز کے وقت فعال کر دیا گیا تھا، جس کے بعد توانائی، خوراک اور دیگر خام مال کی ترسیل میں سال بہ سال اضافہ ہوا ہے اور 2024 میں یہ حجم 2.7 کروڑ ٹن کے قریب پہنچ چکا ہے۔ دوطرفہ تجارت کے ساتھ ساتھ اس راہداری کی ترقی میں روس اور بھارت کے درمیان بڑھتا ہوا تبادلہ بھی مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ بھارت روس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو بڑی حد تک نظر انداز کر رہا ہے، اور 2030 تک دونوں ممالک کی باہمی تجارت کا حجم 100 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ INSTC کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ وسطی ایشیائی خشکی میں گھرے ممالک کو سمندری رسائی فراہم کرتا ہے، جو علاقائی سطح پر اس کی اہمیت کو بڑھا دیتا ہے۔

اقوام متحدہ کی پابندیوں کی بحالی اور تیسرے فریق ممالک کے خلاف ممکنہ ثانوی اقدامات کی دھمکیاں بظاہر چین کے لیے اس خطے میں شراکت داری کا نیا دروازہ کھول سکتی ہیں، خاص طور پر INSTC کی اُن گذرگاہوں پر جہاں اس کا رابطہ بیجنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) سے ہوتا ہے۔

چاہے یہ صورتحال جس سمت بھی جائے، یورپی رہنما اب تک نہ تو اپنی کارروائیوں کے بتدریج ختم ہوتے اثرات کو سمجھ پائے ہیں، اور نہ ہی ان کے دیرپا منفی نتائج کا ادراک رکھتے ہیں جو پورے براعظم کو لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ گزشتہ پانچ صدیوں کی معاشی تاریخ بلاشبہ یورپ کی رہی ہے، مگر برسلز کی بظاہر لاعلاج بصیرت سے محرومی اسے آنے والے عہد کی تحریر سے خارج کرتی جا رہی ہے، جو اس وقت ایشیا میں رقم ہو رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین