جمعہ, فروری 20, 2026
ہومنقطہ نظرفرانسسکا البانیز کے خلاف پراپیگنڈہ: ٹیکنالوجی ارب پتیوں کی غزہ میں نسل...

فرانسسکا البانیز کے خلاف پراپیگنڈہ: ٹیکنالوجی ارب پتیوں کی غزہ میں نسل کشی میں شراکت بے نقاب کرنے کی سزا
ف

تحریر: ڈیوڈ ملر

نسل کش صیہونی اس وقت شدید غصے میں مبتلا ہیں کہ بین الاقوامی وکیل اور اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز فلسطین کے ساتھ مسلسل یکجہتی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

ان کے خلاف تازہ ترین حربہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ان پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا:
"البانیز کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سیاسی و اقتصادی جنگ کی مہم مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہم اپنے شراکت داروں کے حقِ دفاع میں ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔”

روبیو اب تک کے سب سے زیادہ صیہونیت نواز امریکی وزرائے خارجہ میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں صیہونی لابیز کی جانب سے دس لاکھ ڈالر سے زائد کی مالی معاونت ملی ہے، جس سے وہ pro-Israel عطیات حاصل کرنے والوں میں سرفہرست ہیں۔

پابندیوں کے اس اعلان کا وقت اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے واشنگٹن ڈی سی کے دورے سے ہم آہنگ تھا۔ روبیو اور نیتن یاہو نے اسی دن ملاقات کی جس دن پابندیوں کا اعلان ہوا، جو قریبی تال میل کی واضح علامت ہے۔

یہ تازہ ترین کارروائی البانیز کو نشانہ بنانے کی اس مہم کا تسلسل ہے، جس کے تحت اس سے پہلے بھی اسرائیل نواز تنظیموں جیسے ADL اور UN Watch نے انہیں اقوام متحدہ کے عہدے سے ہٹوانے کی ناکام کوششیں کیں۔

ان امریکی پابندیوں کے تحت البانیز کے امریکہ میں موجود تمام اثاثے منجمد کیے جائیں گے اور ان کے امریکہ کا سفر کرنے کی راہیں بھی مسدود ہوں گی۔

البانیز اٹلی کی شہری ہیں۔ اگر ان پابندیوں کا مکمل نفاذ کیا گیا تو یہ ممکنہ طور پر انہیں یورپی یونین میں مالی لین دین سے بھی روک سکتی ہیں۔

البانیز نے امریکی اقدام کو ’مافیا طرز کی دھمکیاں‘ قرار دے کر مسترد کیا ہے۔

یہ پابندیاں اُن کی 30 جون کو شائع کردہ ایک سخت رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہیں، جس میں انہوں نے ساٹھ سے زائد کمپنیوں کو نامزد کیا — جن میں گوگل، ایمیزون اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی شامل ہیں — جو ان کے بقول "اسرائیلی معیشت کو قبضے سے نسل کشی کی معیشت میں تبدیل کرنے” میں شریک ہیں۔

اس رپورٹ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) اور قومی عدالتی نظاموں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان کمپنیوں اور ان کے ایگزیکٹوز کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ ان کمپنیوں پر پابندیاں اور اثاثہ منجمد کرنے جیسے اقدامات کریں۔

البانیز کو باقاعدگی سے موت کی دھمکیاں موصول ہوتی ہیں اور ان کے خلاف اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے منظم کردار کشی کی مہمیں چلائی جاتی ہیں، تاہم وہ بہادری سے محاصرے کے شکار غزہ میں جاری نسل کشی کے حامیوں اور سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وہ اس صورت حال کو "دنیا کی اخلاقی و سیاسی بدعنوانی” قرار دیتی ہیں جو نسل کشی کے تسلسل کی اجازت دے رہی ہے۔ ان کے دفتر نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جنگی جرائم پر مبنی تفصیلی رپورٹس شائع کی ہیں، جن میں سے ایک رپورٹ کا عنوان ہے: "نسل کشی بطور نوآبادیاتی مٹانے کا عمل”۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ صیہونی اور ان کے امریکی اتحادی البانیز کو اس لیے نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ مؤثر ہیں۔ ان پر پابندیاں لگا کر ان کی فعالیت کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ درحقیقت، ان کو تنہا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ یہ قابلِ تصور ہو جائے کہ انہیں قید، اغوا یا حتیٰ کہ قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔

ان پابندیوں کے ساتھ ہم آہنگ انداز میں البانیز کے خلاف گوگل پر اشتہاری مہم بھی شروع کی گئی ہے۔

اطالوی ویب سائٹ Fanpage کی تحقیق کے مطابق، 5 جولائی سے اسرائیلی حکومت نے گوگل پر ایک پی پی سی (Pay-Per-Click) اشتہاری مہم شروع کی، جس کا مقصد البانیز کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس مہم کے تحت جب کوئی ان کا نام سرچ کرتا ہے تو سب سے پہلے اسرائیلی حکومت کی اسپانسر کردہ ایک ویب صفحہ ظاہر ہوتا ہے جو البانیز پر "جانبداری کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی” اور "دہشت گرد گروہوں، بشمول حماس، سے روابط” کا الزام عائد کرتا ہے۔

یہ صفحہ اسرائیلی حکومت کے اشتہاری ادارے کے ذریعے فنڈ کیا جا رہا ہے، جو نیتن یاہو کے لیے کام کرتا ہے، اور تجارتی مواصلاتی ذرائع کو استعمال کر کے غزہ میں نسل کشی کے بیانیے کو مسخ کر رہا ہے۔

یہ طریقہ کار نہایت سادہ ہے: بس گوگل کو رقم دیجیے اور متعلقہ صفحے کو سرچ رزلٹ میں اوپر لے آئیے۔ یہ ’پی پر کلک‘ نظام کے تحت کام کرتا ہے، جس میں مخصوص کلیدی الفاظ چن کر اشتہارات ترتیب دیے جاتے ہیں۔

گوگل ان معاملات میں غیرجانبدار نہیں۔ اس کے بانی، سرگئی برن، نے اقوام متحدہ پر بھی حملہ کیا ہے، اور ایک اندرونی یادداشت میں اسے "واضح طور پر یہود مخالف” قرار دیا ہے۔

یہ بیان اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں البانیز نے گوگل، اس کی مرکزی کمپنی الفابیٹ، مائیکروسافٹ اور ایمیزون پر اسرائیلی فوج و انٹیلیجنس اداروں کو کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت کی سہولتیں فراہم کر کے "غزہ میں جاری نسل کشی کی مہم” میں شراکت دار قرار دیا تھا۔

برن نے مزید کہا کہ "غزہ سے متعلق نسل کشی کا لفظ استعمال کرنا اُن بہت سے یہودیوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے جنہوں نے حقیقی نسل کشی کا سامنا کیا۔” وہ مزید کہتا ہے: "ان معاملات میں اقوام متحدہ جیسے واضح طور پر یہود مخالف اداروں کا حوالہ دینا بھی قابل احتراز ہے۔”

یہ یادداشت گوگل کی ڈیپ مائنڈ AI ڈویژن کے ملازمین کو بھیجی گئی تھی۔

سرگئی برن اور لیری پیج گوگل کے بانیان ہیں۔ دونوں ارب پتی ہیں — فوربس کی عالمی درجہ بندی میں پیج ساتویں اور برن آٹھویں نمبر پر ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ دونوں نہ صرف یہودی بلکہ صیہونی بھی ہیں، اور دنیا کے 3,028 ارب پتیوں میں سے 276 یعنی 9.1 فیصد یہودی ہیں، حالانکہ دنیا کی یہودی آبادی صرف 0.2 فیصد ہے۔

البانیز کی رپورٹ میں شامل دیگر دو ٹیک کمپنیوں کے سربراہان بھی فوربس فہرست میں بلند مقامات پر ہیں — مارک زکربرگ دوسرے اور جیف بیزوس تیسرے نمبر پر۔ بیزوس یہودی نہیں، مگر زکربرگ ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ دنیا کے دس امیر ترین ارب پتیوں میں سے پانچ یہودی ہیں: لیری ایلیسن، مارک زکربرگ، لیری پیج، سرگئی برن اور اسٹیو بالمر۔ ان میں سے ہر ایک شدید صیہونی ہے۔

یہ امر بذات خود غیرمعمولی ہے کہ دنیا کی صرف 0.2 فیصد آبادی والے یہودی، دنیا کے امیر ترین افراد میں 50 فیصد پر قابض ہیں۔ لیکن باقی پانچ غیر یہودی ارب پتیوں کا صیہونیت سے کیا تعلق ہے؟ ایک سرسری جائزہ کافی ہے۔

ایلون مسک بسا اوقات صیہونیوں کو ناپسندیدہ باتیں کہہ دیتے ہیں، مثلاً ٹرمپ کے ساتھ ان کا حالیہ اختلاف، جو جیفری ایپسٹین کے حوالے سے تھا۔ لیکن ان کے صیہونیت سے ممکنہ تحفظات اُن کے دفاعی معاہدوں اور نیتن یاہو کے فراہم کردہ پراپیگنڈا دوروں کے سامنے بے معنی ہو جاتے ہیں۔

بیزوس نے صیہونی منصوبے سے متعلق بیانات دیے ہیں، مگر ایمیزون — جیسا کہ البانیز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے — اسرائیلی حکومت کے ساتھ نسل کشی میں شریک ہے، چاہے اس کے ملازمین کی طرف سے کتنا ہی احتجاج کیوں نہ ہو۔

ارنو اور ان کا خاندان، جو لوی ویتوں موئت ہینسی (LVMH) کے مالک ہیں، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں، خصوصاً سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں، سرمایہ کاری کیے ہوئے ہیں۔

وارن بفیٹ صیہونی حکومت میں بھاری سرمایہ کاری کرتے ہیں اور انہوں نے اسرائیل بانڈز کے لیے تین ڈنر تقاریب کی میزبانی کی، جن میں تقریباً 30 کروڑ ڈالر جمع کیے گئے۔

امانسو اورٹیگا، جو انڈیٹیکس (Zara) کے بانی ہیں، ان پر ماضی میں بائیکاٹ کی مہمیں چل چکی ہیں، خاص طور پر ان کے اسرائیل میں فرنچائز مالکان کی سرگرمیوں کی وجہ سے۔

یقینی طور پر، صیہونی نسل کشی کو سہارا دینے کے لیے ارب پتی کا یہودی ہونا ضروری نہیں — لیکن اگر ہو تو زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہے۔ اصل قابل غور امر یہ ہے کہ صیہونی لابی نے کس قدر مؤثر طریقے سے ٹیک انڈسٹری اور دنیا کی ارب پتی کلاس کو اپنے مفاد میں استعمال کیا ہے — یا شاید دباؤ میں لے لیا ہے۔

یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ نسل کشی روکنے کے لیے ہمیں پوری ٹیکنالوجی صنعت اور ارب پتی طبقے کو ’ڈی-زائینائز‘ کرنا ہوگا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین