بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامییمن نے اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو ہدف قرار دے دیا

یمن نے اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو ہدف قرار دے دیا
ی

صنعا(مشرق نامہ)یمنی مسلح افواج نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے بحری ناکہ بندی کے چوتھے مرحلے کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اب ایسے تمام بحری جہاز جو اسرائیلی بندرگاہوں سے منسلک کمپنیوں کے زیرِ ملکیت ہوں گے، چاہے ان کی قومیت کچھ بھی ہو یا ان کی منزل کوئی بھی ہو، یمنی میزائلوں اور ڈرونز کا ہدف بن سکتے ہیں۔

یحییٰ سریع نے واضح کیا کہ تمام کمپنیوں کو فوری طور پر اسرائیلی بندرگاہوں سے اپنا تجارتی تعلق ختم کرنا ہوگا، بصورت دیگر ان کے جہازوں کو دنیا کے کسی بھی حصے میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے جہاں یمنی افواج پہنچ سکتی ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کی اقوام پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر غزہ کی جنگ اور محاصرے کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں، بصورت دیگر خطے میں مزید کشیدگی کے لیے تیار رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "کوئی بھی آزاد انسان غزہ میں ہونے والے مظالم کو قبول نہیں کر سکتا۔”

یمنی افواج نے اپنے اقدامات کو مکمل طور پر اخلاقی، انسانی اور مذہبی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ جیسے ہی غزہ پر حملے ختم ہوں گے اور محاصرہ اٹھا لیا جائے گا، تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں گی۔ بیان میں اسرائیلی ریاست کی طرف سے غزہ میں جاری نسل کشی، ہزاروں شہادتوں، اور عرب و اسلامی ممالک کی مجرمانہ خاموشی پر شدید افسوس کا اظہار کیا گیا۔فوجی بیان کے آخر میں ایک سوال اٹھایا گیا: عرب اور مسلمان کب تک خاموش رہیں گے؟

یمنی حکومت اور افواج نے واضح کیا ہے کہ ان کے تمام اقدامات دفاعی اور اصولی نوعیت کے ہیں، اور وہ فلسطینی عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کے تحت جاری رہیں گے، جب تک کہ غزہ پر حملے اور محاصرہ ختم نہ ہو جائے۔ یہ پالیسی یمن کے وسیع تر فضائی و بحری ناکہ بندی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد اسرائیلی جارحیت کو روکنا اور فلسطینی عوام کے لیے انسانی راہداریاں کھولنا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین