بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانپاکستان کا وارننگ سیٹلائٹ 31 جولائی کو خلا میں جائے گا

پاکستان کا وارننگ سیٹلائٹ 31 جولائی کو خلا میں جائے گا
پ

اسلام آباد(مشرق نامہ): پاکستان جو نوجوان اور باصلاحیت افرادی قوت سے مالا مال ہے، عرصہ دراز سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر پر انحصار کرتا رہا ہے، جو ملکی معیشت کو وقتی ریلیف فراہم کرتی ہیں۔ تاہم یہ ترسیلات ایک بھاری قیمت پر حاصل ہوتی ہیں، کیونکہ ان کے بدلے ملک اپنے سب سے قیمتی اثاثے — ہنر مند، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد — کھو رہا ہے۔ اس رجحان کو "برین ڈرین” کہا جاتا ہے، جو حالیہ برسوں میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بے یقینی، کم اجرتوں اور پیشہ ورانہ مواقع کی کمی کے باعث تیزی سے بڑھا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے مطابق، پاکستان جنوبی ایشیا میں انسانی سرمائے کی ہجرت میں تیسرے اور دنیا بھر میں چھٹے نمبر پر ہے۔ صرف 2022 سے 2023 کے دوران، ہنر مند افراد کی بیرونِ ملک روانگی میں 26.6 فیصد اضافہ ہوا۔ اگرچہ ترسیلات زر 2024-25 میں 38.5 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، مگر یہ مالی فائدہ اس معاشی نقصان کی تلافی نہیں کر سکتا جو ملک کو ہنرمند افراد کے انخلاء سے ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق، اگر ہر سال 1 لاکھ ہنرمند پاکستانی بیرونِ ملک چلے جائیں، اور وہاں اوسطاً 60,000 ڈالر سالانہ کمائیں، جن میں سے صرف 6,000 ڈالر ترسیلات کی صورت میں وطن واپس آئیں، تو پاکستان کو 4.2 ارب ڈالر سالانہ کا موقعی نقصان (opportunity cost) ہوتا ہے۔ اس میں وہ عوامی سرمایہ کاری شامل ہے جو ریاست نے ان کی تعلیم، تربیت اور صحت پر کی ہوتی ہے۔ صرف ڈاکٹروں کی مثال لیں، تو ایک ڈاکٹر کی تربیت پر اوسطاً 25,000 ڈالر خرچ آتا ہے، اور اگر 10,000 ڈاکٹر سالانہ ملک چھوڑیں تو یہ صرف تربیت میں ہی 250 ملین ڈالر کا نقصان ہے۔

برین ڈرین سے ملک کا نہ صرف معاشی نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ صحت، تعلیم، تحقیق، انفراسٹرکچر اور پالیسی سازی جیسے اہم شعبے بھی زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ نوجوان پیشہ ور افراد کی کمی سے تحقیق، اختراع، اور کاروباری سرگرمیوں میں سست روی آتی ہے، جبکہ مڈل کلاس سکڑتی ہے، جس سے مقامی معیشت اور صارف مارکیٹ بھی متاثر ہوتی ہے۔

ترسیلات زر بظاہر معیشت کو وقتی سہارا دیتی ہیں، مگر یہ ملک کی اندرونی ترقی کے لیے درکار قیادت، علم، اور اختراعی سوچ کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ بیشتر ترسیلات روزمرہ اخراجات، تعمیرات یا سماجی ذمہ داریوں پر خرچ ہو جاتی ہیں، جبکہ صنعت، تعلیم یا ٹیکنالوجی جیسے پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

اگر پاکستان کو اس مسئلے سے نمٹنا ہے تو اسے ہنرمندوں کو ملک میں رکھنے اور واپس لانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کاروباری مواقع، تحقیقی اداروں، ٹیکنالوجی زونز اور جدید تعلیمی نظام میں سرمایہ کاری کرے، جبکہ دوہری شہریت، نالج ٹرانسفر پروگرام، اور ریورس برین ڈرین اسکیمز جیسے اقدامات بھی متعارف کرائے۔ برین ڈرین صرف معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ قومی ترقی کے مستقبل سے جڑا ہوا سنگین چیلنج ہے، جسے بروقت حل کرنا ناگزیر ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین