اسلام آباد(مشرق نامہ): ایک اہم اور ہزاروں زائرین کو متاثر کرنے والے فیصلے میں، حکومتِ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اس سال اربعین کے موقع پر ایران اور عراق کے لیے زمینی راستے سے سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صرف ہوائی سفر کو اجازت دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ عوامی تحفظ اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ وزارت خارجہ، بلوچستان حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے تفصیلی مشاورت کے بعد کیا گیا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے زائرین کے لیے خصوصی پروازوں کے انتظامات کی ہدایت دی ہے تاکہ زائرین اپنی روحانی زیارت مکمل کر سکیں۔ وزیر داخلہ نے وزیراعظم سے ملاقات میں زائرین سے متعلق نئی پالیسی پر بریفنگ دی، جبکہ اجلاس میں بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال اور گوادر سیف سٹی منصوبے پر بھی بات چیت ہوئی۔
دوسری جانب، حکومت کے اس فیصلے کے خلاف کوئٹہ کے علمدار روڈ پر شہداء چوک کے قریب مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے اس فیصلے کو امتیازی، ظالمانہ اور غریب و متوسط طبقے کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیا، کیونکہ ہوائی سفر ان کے لیے مہنگا اور ناقابلِ برداشت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں زائرین پہلے ہی ویزے حاصل کر چکے ہیں، لہٰذا حکومت کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے اور زائرین کو محفوظ زمینی راستے کی اجازت دینی چاہیے۔
واضح رہے کہ اربعین، امام حسینؑ کے یوم شہادت کے چالیسویں دن کی یاد میں منایا جاتا ہے اور ہر سال ہزاروں پاکستانی زائرین عراق اور ایران کا رخ کرتے ہیں۔ زمینی راستے پر پابندی سے اب ان کی سفری منصوبہ بندی میں بڑی تبدیلیاں درکار ہوں گی، جبکہ حکومت کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔

