اسلام آباد(مشرق نامہ): حکومت نے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے کے تحت پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کو 2.381 کھرب روپے سے کم کر کے تقریباً 561 ارب روپے تک لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت 1,275 ارب روپے 18 کمرشل بینکوں سے قرض لے گی تاکہ پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (PHL) اور بجلی گھروں کے سود والے واجبات کی ادائیگی کی جا سکے۔ سنٹرل پاور پرچیز ایجنسی (CPPA-G) اس رقم کو استعمال کرے گی تاکہ 683 ارب روپے PHL اور 569 ارب روپے بجلی گھروں کے واجبات ادا کیے جا سکیں۔ اس اقدام کے تحت 387 ارب روپے کی لیٹ پیمنٹ انٹرسٹ معاف کروائی گئی ہے جبکہ 348 ارب روپے کے بقایاجات بھی کلیئر کیے گئے ہیں۔ باقی 561 ارب روپے کا بوجھ مزید اصلاحات اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی سے ختم کیا جائے گا۔ صارفین یہ 1,275 ارب روپے کا قرضہ ڈیٹ سروس سرچارج کے ذریعے ادا کریں گے، جو پہلے سے بجلی کے بلوں میں شامل ہے اور آئندہ چھ سال تک نافذ رہے گا۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف کے مطالبے پر 3.23 روپے فی یونٹ سرچارج کی 10 فیصد حد بھی ختم کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام پاور سیکٹر کی مالی حالت بہتر بنانے اور سرکلر ڈیٹ پر قابو پانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

