مشرق وسطیٰ (مشرق نامہ) – اسرائیلی بحریہ نے ایک برطانوی پرچم بردار امدادی جہاز پر اس وقت قبضہ کر لیا جب وہ محصور غزہ کی جانب امداد لے کر جا رہا تھا تاکہ صیہونی محاصرے کو توڑا جا سکے۔
ہفتے کے روز اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ ’’ حنظلہ‘‘ نامی یہ جہاز اٹلی سے روانہ ہوا تھا، جس میں 21 غیرمسلح کارکن سوار تھے، جن میں ارکان پارلیمان، طبی ماہرین اور رضا کار شامل تھے۔
عملے کے مطابق جہاز کے قریب پہنچنے سے قبل ایک ڈرون ان کے اوپر پرواز کرتا دکھائی دیا، جس کے فوراً بعد اسرائیلی بحری جہاز نمودار ہوئے۔
عملے نے فوری طور پر ’’ایمرجنسی کال‘‘ جاری کی۔
جہاز پر سوار انسانی حقوق کی کارکن ہووائیدہ عارف نے بتایا کہ اسرائیلی بحریہ کے جہازوں کو دیکھنے کے بعد عملے نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب موصول نہ ہوا۔
آخرکار فرانسیسی رکن یورپی پارلیمنٹ ایما فورو، جو جہاز پر سوار تھیں، نے اعلان کیا کہ
’’اسرائیلی فوج یہاں موجود ہے۔‘‘
آن لائن نشر کی گئی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ عملہ حفاظتی جیکٹ پہنے ایک ساتھ بیٹھا ہوا ہے اور تصادم سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھ بلند کیے ہوئے ہے۔
ایما فورو نے مزید کہا کہ
’’نسل کشی بند کرو‘‘ – ان کا اشارہ اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی نسل کشی پر مبنی جنگ کی جانب تھا، جس میں غزہ کو مکمل محاصرے کا شکار بنایا جا رہا ہے۔
یہ جنگ 2007 سے جاری محاصرے کو مزید سخت کرنے کا ذریعہ بنی، اور اس دوران تقریباً تمام انسانی امداد کی راہ روک دی گئی۔
اس فوجی جارحیت اور شدید پابندیوں، جنہیں ’’بھوک کو ہتھیار‘‘ بنانے کا عمل کہا جا رہا ہے، کے نتیجے میں اب تک 59,700 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
’’ حنظلہ‘‘ جہاز اپنے ساتھ بچوں کے لیے دودھ، خوراک، اور ادویات پر مشتمل انسانی امداد لے کر جا رہا تھا تاکہ محصور آبادی کو کچھ ریلیف دیا جا سکے۔
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ بھی اسرائیلی فوج نے ایک اور امدادی کشتی پر قبضہ کر لیا تھا، جس میں 12 نمایاں عالمی کارکن سوار تھے۔
اس سے قبل مئی میں، ایک امدادی جہاز جس میں معروف سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ اور دیگر افراد سوار تھے، اسرائیلی ڈرون حملے کی زد میں آیا جب وہ مالتا کے ساحل کے قریب تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیلی ریاست امدادی سامان کو بھی مسلح طاقت سے روکنے پر آمادہ ہے، جیسا کہ 2010 میں ترک پرچم بردار امدادی جہاز پر مہلک حملے سے ظاہر ہوا تھا، جو غزہ کے لیے روانہ ہوا تھا۔

