مشرق وسطیٰ (مشرق نامہ) – فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے غزہ کے لیے روانہ ہونے والے امدادی جہاز پر اسرائیلی افواج کے قبضے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "دہشتگردی اور قزاقی کی نئی شکل” قرار دیا ہے۔ یہ جہاز جنگ زدہ غزہ کی پٹی کی طرف رواں دواں تھا، جہاں قحط کا شدید خطرہ منڈلا رہا ہے، اور اس پر تقریباً 21 کارکنان سوار تھے۔
حماس نے اتوار کے روز جاری بیان میں کہا کہ اسرائیلی بحریہ نے "حنظلہ” نامی جہاز پر چڑھائی کی، عملے کے اراکین پر ہتھیار تان لیے، اور انہیں حراست میں لے لیا، جو کہ بنی نوع انسان کے ضمیر اور ارادے کے خلاف ایک کھلی جارحیت ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس اقدام نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ صیہونی حکومت کسی بھی انسانی اصول یا بین الاقوامی قانون کی پابند نہیں، اور انسانی امداد کے ہر ممکن راستے کو بند کر کے اس نے ظلم کی نئی حد قائم کر دی ہے۔
حماس کے مطابق، یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ کو مکمل جنگ، منظم قحط پالیسی، اور وحشیانہ محاصرے کا سامنا ہے۔ یہ وہی جنگ ہے جسے تحریک نے نسل کشی سے تعبیر کیا، اور جو اکتوبر 2023 سے مسلسل جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق، اسرائیلی حکومت نے ہلاکتوں کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی پالیسی کے تحت حالیہ مہینوں میں غزہ پر اپنی گرفت مزید سخت کر دی ہے، حالانکہ 2007 سے ہی یہ علاقہ ناکہ بندی کا شکار ہے۔ اس کے نتیجے میں تقریباً تمام انسانی امداد غزہ پہنچنے سے روک دی گئی ہے، حالانکہ زمینی حقائق انتہائی ہنگامی مدد کے متقاضی ہیں۔
بے رحم بمباری اور زندگی بچانے والی اشیاء پر پابندی کا یہ مجموعہ اب بین الاقوامی حلقوں میں "قحط کو بطور ہتھیار استعمال کرنے” کی ایک حکمتِ عملی کے طور پر شدید تنقید کا نشانہ بن رہا ہے، اور اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا شدید نقصان ہوا ہے۔
حماس نے جہاز "حنظلہ” کے عملے کو اس جرات مندانہ اقدام پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی یہ کاوش عالمی رائے عامہ کو اسرائیلی جرائم کی سنگینی سے آگاہ کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
بیان کے اختتام پر حماس نے غزہ کا محاصرہ توڑنے کی نچلی سطح پر ہونے والی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ یہ اقدامات "انسانی ضمیر کی زندہ علامت” ہیں، جو نہ صرف صیہونی حکومت کی اصل فطرت کو بے نقاب کرتے ہیں بلکہ ان عالمی طاقتوں کی شراکت داری کو بھی آشکار کرتے ہیں جو اس کے جرائم میں شریک ہیں۔

