ٹراورس سٹی (مشرق نامہ) – ریاست مشی گن کے شہر ٹراورس سٹی میں واقع ایک وال مارٹ اسٹور میں ہفتے کے روز ہونے والے ایک بے ترتیب چاقو حملے میں کم از کم 11 افراد زخمی ہو گئے۔
گرینڈ ٹراورس کاؤنٹی شیرف کے دفتر کے مطابق، 42 سالہ ایک شخص شام 4 بج کر 45 منٹ پر اسٹور میں داخل ہوا اور ایک فولڈنگ نائف (تہ ہونے والے چاقو) سے حملہ کیا۔
واقعے کے فوراً بعد ایمرجنسی سروسز موقع پر پہنچ گئیں۔ شمالی مشی گن کے سب سے بڑے اسپتال "منسن ہیلتھ کیئر” نے تصدیق کی کہ تمام زخمیوں کا علاج وہیں کیا جا رہا ہے۔ ہفتے کی رات تک اسپتال نے بتایا کہ 6 افراد کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ 5 دیگر افراد کی حالت بھی سنجیدہ بتائی گئی۔
اسپتال کی انتظامیہ نے عوام سے صبر کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وال مارٹ واقعے کے بعد ایمرجنسی وارڈ میں مریضوں کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ ہے، جس سے عملے پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔
واقعے کے چند ہی منٹ بعد ایک شیرف ڈپٹی موقع پر پہنچا اور مشتبہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا۔ اسٹور میں موجود افراد نے حملہ آور کو قابو کرنے میں پولیس کی مدد کی اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔
عینی شاہد خاتون 36 سالہ ٹفنی ڈی فیل، جو واقعے کے وقت پارکنگ لاٹ میں موجود تھیں، نے بتایا: "یہ بہت خوفناک لمحہ تھا۔ میں اور میری بہن شدید خوف زدہ ہو گئے تھے۔”
تحقیقات جاری، حکام اور وال مارٹ کا ردعمل
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور اسٹور کے عملے و عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کر دیے۔ منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں ایمبولینسیں اور پولیس کی گاڑیاں شاپنگ سینٹر کی پارکنگ لاٹ میں دکھائی دے رہی ہیں، جہاں دیگر کئی دکانیں بھی واقع ہیں۔
ریاست مشی گن کی گورنر گریچن وِٹمر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ہم متاثرہ افراد اور اس کمیونٹی کے ساتھ ہیں جو اس ہولناک پرتشدد واقعے سے صدمے میں ہے۔ میں پہلے ردعمل دینے والے عملے کی فوری کارروائی پر ان کی شکر گزار ہوں۔
وال مارٹ کمپنی کی جانب سے بھی جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ایسا تشدد ناقابلِ قبول ہے۔ ہم زخمیوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں اور فوری کارروائی پر امدادی اداروں کے شکر گزار ہیں۔
ٹراورس سٹی، جو ڈیٹرائٹ سے تقریباً 410 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے، جھیل مشی گن کے کنارے ایک معروف سیاحتی مقام ہے۔ ہفتے کے اس اچانک اور اندوہناک واقعے نے مقامی آبادی کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عوامی مقامات بالخصوص ریٹیل مراکز میں تحفظ کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

