جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیتیونس، لیبیا اور ترکی میں اسرائیلی نسل کشی کیخلاف مظاہرے

تیونس، لیبیا اور ترکی میں اسرائیلی نسل کشی کیخلاف مظاہرے
ت

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– تیونس، لیبیا اور ترکی میں عوام کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہروں کے ذریعے غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی اور 23 لاکھ فلسطینیوں کو دانستہ طور پر فاقہ کشی کا شکار بنانے کے اقدامات کی شدید مذمت کی۔

تیونس میں ہفتے کے روز امریکی اور مصری سفارتخانوں کے باہر مظاہرے کیے گئے، جن میں شریک افراد نے غزہ پر اسرائیل کی غیر انسانی ناکہ بندی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے واضح کیا کہ یہ محاصرہ محض ایک انسانی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ ہے، اور اس کا جواب صرف عوامی اور مزاحمتی اقدام سے ہی دیا جا سکتا ہے۔

ادھر لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں مصری سفارتخانے کے باہر مظاہرین نے جمع ہو کر رفح بارڈر کو فوری طور پر کھولنے اور غزہ کے عوام تک انسانی امداد کی رسائی کا مطالبہ کیا۔

ترکی کے شہر استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے سامنے احتجاج کیا گیا، جہاں مظاہرین نے فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی نسل کشی اور قحط پھیلانے کی دانستہ پالیسیوں کی مذمت کی۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی تاریخی جوابی کارروائی کے بعد اسرائیل نے غزہ پر تباہ کن جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ یہ حملہ دراصل فلسطینی عوام پر صہیونی ریاست کے مسلسل مظالم کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔

تاہم تل ابیب حکومت تاحال اپنے اعلانات کے مطابق حماس کو ختم کرنے اور تمام قیدیوں کو بازیاب کرانے کے اہداف میں مکمل ناکام رہی ہے، حالانکہ اس دوران اسرائیل نے 59,733 فلسطینیوں کو شہید اور 144,477 کو زخمی کر دیا، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

غزہ اس وقت مکمل محاصرے کے باعث قحط کے سنگین بحران کا شکار ہے۔ تمام ضروری امدادی اشیاء اور خوراک کی بندش کی وجہ سے لاکھوں زندگیاں خطرے میں ہیں۔

اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل دانستہ طور پر خوراک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو کہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین