جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیحماس کا اسرائیلی فضائی امداد پر ردعمل

حماس کا اسرائیلی فضائی امداد پر ردعمل
ح

غزہ (مشرق نامہ) – فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے غزہ میں اسرائیل کی محدود فضائی امداد کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “فریب پر مبنی چال” قرار دیا ہے، جس کا مقصد محصور علاقے میں بھوک کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کا انتظام کرنا ہے تاکہ عالمی برادری کو گمراہ کیا جا سکے۔

اتوار کے روز جاری کردہ بیان میں حماس نے کہا کہ جرائم پیشہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ کے کچھ حصوں میں محدود فضائی امداد کوئی انسانی ہمدردی نہیں بلکہ محض ایک منافقانہ اور نمائشی اقدام ہے جس کا مقصد عالمی رائے عامہ کے سامنے اپنی شبیہ بہتر بنانا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کے یہ فضائی آپریشنز اور نام نہاد “انسانی راہداریوں” کی پالیسیاں دراصل “بھوک کو کنٹرول کرنے کی ایک عریاں حکمت عملی” ہیں، نہ کہ اسے ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش۔

حماس نے واضح کیا کہ غزہ میں اسرائیلی افواج کی مسلط کردہ بھوک کی ظالمانہ پالیسی کا واحد حل یہ ہے کہ اسرائیلی جارحیت روکی جائے، محاصرہ مکمل طور پر ختم کیا جائے، اور تمام زمینی گزرگاہیں اقوام متحدہ کے امدادی نظام کے تحت فوری طور پر کھولی جائیں تاکہ حقیقی امداد غزہ پہنچ سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جنگی مجرم نیتن یاہو کی کابینہ کی جانب سے امداد کو کنٹرول کرنے کے لیے غیر انسانی طریقہ کار نافذ کرنا اور بھوک کو طول دینا — جس کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار سے زائد شہری جاں بحق اور چھ ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں — واضح جنگی جرائم ہیں۔

حماس نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ تل ابیب کی فسطائی حکومت کے جھوٹے پراپیگنڈے سے دھوکہ نہ کھائے، اور مسلسل عوامی و سرکاری دباؤ کے ذریعے محاصرہ توڑنے، نسل کشی روکنے اور بھوک کے جرائم کے خلاف آواز بلند کرے۔

اتوار کے روز شمالی غزہ میں کم از کم 11 بے گھر فلسطینی اس وقت زخمی ہو گئے جب امدادی پیکج ان کے خیموں پر گرا دیے گئے۔

دوسری جانب، آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اسرائیلی محاصرے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

غزہ کی گورنمنٹ میڈیا آفس نے متنبہ کیا ہے کہ علاقے میں ایک بے مثال انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ دفتر کے مطابق 1 لاکھ سے زائد بچے — جن میں 40 ہزار نومولود شامل ہیں — جان لیوا بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں۔

محاصرہ اور گزرگاہوں کی مسلسل بندش کے باعث غذائی قلت اور قحط کے نتیجے میں اب تک بھوک سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 122 ہو چکی ہے، جن میں 83 بچے شامل ہیں، جبکہ خدشہ ہے کہ یہ تعداد تیزی سے بڑھے گی۔

ادھر اقوام متحدہ کی ایجنسیاں اور دیگر انسانی ہمدردی کی تنظیمیں خبردار کر رہی ہیں کہ شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کے لیے مخصوص علاجی خوراک تقریباً ختم ہو چکی ہے، جس سے ہزاروں بچوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔

7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران اب تک کم از کم 59,733 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں — جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے — جبکہ 144,477 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین