اسلام آباد (مشرق نامہ) – پاکستان نے ہفتے کے روز علاقائی چیفس آف ڈیفنس اسٹاف کانفرنس کی میزبانی کی، جس میں امریکہ، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے سینئر عسکری رہنما شریک ہوئے۔ اس اجلاس کو علاقائی سلامتی کے فروغ اور فوجی سفارت کاری میں اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ اعلیٰ سطحی کانفرنس “روابط کو مضبوط بنانا، امن کو محفوظ بنانا” کے عنوان کے تحت منعقد کی گئی، جس کا مقصد سیکیورٹی تعاون کو مستحکم کرنا، مشترکہ تربیتی اقدامات کو فروغ دینا، اور انسداد دہشتگردی و دفاعی حکمت عملی سے متعلق بہترین تجربات کا تبادلہ تھا۔ یہ بات آئی ایس پی آر کے بیان میں کہی گئی۔
چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شریک وفود کو خوش آمدید کہا اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسے دور میں جہاں سرحد پار خطرات اور پیچیدہ ہائبرڈ چیلنجز نمایاں ہو چکے ہیں، وہاں عسکری سطح پر گہرا تعاون، اسٹریٹجک مکالمہ اور باہمی اعتماد ازحد ضروری ہے۔ پاکستان ایک پرامن اور خوشحال خطے کے لیے شراکت دار ممالک کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
شرکاء نے علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال، انسداد دہشتگردی تعاون، وسطی اور جنوبی ایشیا میں ابھرتے ہوئے تزویراتی رجحانات، اور بحران کے دوران انسانی بنیادوں پر مشترکہ ردعمل جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔
وفود نے امن کے قیام، قومی خودمختاری کے احترام، اور دہشتگردی، سائبر عدم تحفظ اور پرتشدد انتہا پسندی جیسے مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی عزم کا اظہار کیا۔
شریک عسکری قیادت نے پاکستان کی قیادت اور مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے اس کانفرنس کو ایک جامع اور مستقبل بین دفاعی سفارت کاری کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا۔
یہ اجلاس پاکستان کے اس تسلسل کا مظہر ہے جس کے تحت وہ خطے میں ایک محفوظ، مربوط اور باہمی تعاون پر مبنی سیکیورٹی ماحول کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جو باہمی مفادات اور علاقائی یکجہتی پر مبنی ہے۔
یہ پیشرفت عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کا ایک اور ثبوت ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان ان دنوں تمام بڑی عالمی طاقتوں اور خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مؤثر روابط قائم کیے ہوئے ہے۔
فوجی سربراہ چند روز قبل بیجنگ کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے چین کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اسی دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی، جسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ روبیو نے ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحت کی کوششوں اور خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے اقدامات کو سراہا۔
بعدازاں، وزیر خارجہ ڈار نے اٹلانٹک کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ اور چین کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی پاکستان نے ان دونوں طاقتوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اب دوبارہ یہ کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

