مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)سی پیک کے تحت چینی توانائی منصوبوں کے واجبات بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 22 ارب روپے (5.5 فیصد) کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ یہ رقم چینی پاور کمپنیوں کو بجلی کی فروخت کے عوض ادا کی جانی ہے، لیکن حکومت کی مالی مشکلات اور گردشی قرضے کی موجودگی کی وجہ سے ادائیگیوں میں تاخیر ہو رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک پاکستان نے 2017 سے لے کر اب تک 18 چینی پاور منصوبوں کو تقریباً 5.1 کھرب روپے ادا کیے ہیں، جو مجموعی واجب الادا رقم کا 92.3 فیصد ہے، لیکن اس میں سود کی رقم بھی شامل ہے، جو تاخیر کی وجہ سے بڑھتی جا رہی ہے۔
ان منصوبوں میں سب سے زیادہ واجبات ساہیوال کول پاور پلانٹ (87 ارب روپے)، پورٹ قاسم (85.5 ارب روپے)، حب پاور (69 ارب روپے)، تھر کول (55.5 ارب روپے)، انگرو پاور جن تھر (38 ارب روپے)، کرو (11 ارب روپے) اور مٹیاری-لاہور ٹرانسمیشن لائن (28.5 ارب روپے) پر ہیں۔ پاکستانی حکومت ایک نئی حکمت عملی کے تحت کمرشل بینکوں سے 1.3 کھرب روپے کا قرض حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ گردشی قرضے کو ختم کیا جا سکے اور چینی کمپنیوں کو فوری ادائیگی ممکن ہو۔
حکومت کی جانب سے چینی کمپنیوں سے سود معاف کرنے کی درخواست کی جا رہی ہے، لیکن چینی سرمایہ کار اندرونی پالیسیوں کے باعث اس پر رضامند نہیں ہو رہے۔ سی پیک کے 2015 کے معاہدے کے تحت پاکستان پر لازم ہے کہ وہ چینی کمپنیوں کو ادائیگیوں میں تاخیر نہ کرے، مگر عملی طور پر ریووالونگ فنڈ کو بھی محدود کر کے 4 ارب روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے، جو ان وعدوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ چینی حکومت نے سفارتی سطح پر اس مسئلے کو کئی بار اٹھایا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اگلے دورہ چین میں اس معاملے کو ایجنڈے میں شامل کریں گے تاکہ چینی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔

