بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیلبنانی شیعہ خاندان جنگ کے بعد شناخت کے جال میں پھنس گئے

لبنانی شیعہ خاندان جنگ کے بعد شناخت کے جال میں پھنس گئے
ل

بیروت(مشرق نامہ) جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ (Dahiyeh) میں رہنے والے شیعہ خاندان، جو اسرائیلی حملوں کے دوران اپنی جانیں بچا کر نکلے، اب امن کے بعد بھی بے یقینی، تعصب اور شناخت کی بنیاد پر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ فاطمہ قندیل، ایک 43 سالہ خاتون، اور ان کے دو بیٹے حسن اور حسین، جنگ کے بعد بمشکل اپنے پرانے علاقے میں ایک نیا کرائے کا فلیٹ حاصل کر سکے ہیں۔ ان کا سابقہ گھر اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ ہو چکا ہے۔ ملبے سے انہوں نے اپنی زندگی کی کچھ باقیات، جیسے الماریاں، بستر اور بچوں کا پرانا کھلونا، دوبارہ جمع کیے—جو ان کے لیے زندہ یادگاریں بن چکی ہیں۔

فاطمہ کی طرح ہزاروں شیعہ خاندانوں نے نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی زخم بھی سہے ہیں۔ جنگی تباہی کے ساتھ ساتھ انہیں ان علاقوں میں تعصب کا سامنا کرنا پڑا جہاں وہ عارضی طور پر پناہ لینے گئے۔ ایک دکاندار نے تو انہیں "گھٹیا شیعہ لوگ” کہہ کر تضحیک کا نشانہ بنایا، جو فاطمہ کے لیے ایک ناقابل فراموش لمحہ بن گیا۔ اسی لیے وہ دوبارہ اپنے علاقے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری طرف، ان کی بہن ایمان، جو چار بچوں کی ماں ہیں، اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے ضاحیہ چھوڑنے پر آمادہ ہیں، لیکن انہیں نئے علاقے میں رہائش کے حصول میں فرقہ وارانہ امتیاز کا سامنا ہے۔ مثلاً حضمیہ جیسے علاقوں میں شیعہ خاندانوں کو کرایہ پر گھر دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے یا دگنی قیمت مانگی جاتی ہے۔ عراق میں پناہ کے دوران انہیں لبنانی علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خوش آمدید کہا گیا، جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر سوال اٹھاتا ہے۔

یہ خاندان، جنہوں نے جنگ کا سامنا کیا اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کو سنبھالا، اب امن کے وقت بھی اپنی شناخت کی بنیاد پر دربدری اور تعصب کا شکار ہیں۔ ان کے لیے اصل جنگ شاید اب شروع ہوئی ہے—شناخت اور بقا کی جنگ۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین