جمعہ, فروری 20, 2026
ہومنقطہ نظراسرائیل بلوچ جدوجہد کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے

اسرائیل بلوچ جدوجہد کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے
ا

ایک نئی اسرائیلی منصوبہ بندی اس امر کو بے نقاب کرتی ہے کہ آزادی کی تحریکوں کو کس طرح نوآبادیاتی مقاصد کے لیے ہتھیا لیا جا رہا ہے

تحریر: عبداللہ موسویس

جس روز اسرائیل نے ایران پر بلااشتعال حملے کی تیاریاں مکمل کرتے ہوئے جنگی نعرے بلند کیے، اسی دن ایک نسبتاً کم توجہ پانے والی خبر واشنگٹن ڈی سی کے ایک تھنک ٹینک کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی: مشرق وسطیٰ میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ (MEMRI) نے 12 جون کو بلوچ اسٹڈیز پروجیکٹ (BSP) کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کے تعارف میں بلوچستان کے تیل، گیس، یورینیم، تانبے، کوئلے، نایاب معدنیات اور گوادر و چاہ بہار کی دو گہرے پانیوں والی بندرگاہوں جیسے قدرتی وسائل کا ذکر کیا گیا، اور اسے ایران، اس کے جوہری عزائم اور پاکستان کے ساتھ اس کے "خطرناک تعلقات” پر قابو پانے کے لیے "ایک مثالی اڈہ” قرار دیا گیا۔

یاد رہے کہ MEMRI عربی، فارسی اور ترکی زبانوں کے میڈیا سے چُنیدہ اقتباسات کا ترجمہ کرنے اور انہیں سوشل میڈیا پر میمز کی صورت پھیلانے کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ ادارہ 1998 میں قائم ہوا تھا، اور اس کے بانی کرنل ییگال کارمون دو دہائیوں تک اسرائیلی ملٹری انٹیلیجنس کور میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ MEMRI 2012 سے اسرائیلی ریاست کے لیے "غیر سرکاری” انٹیلیجنس سرگرمیوں میں بھی ملوث رہا ہے۔

اس تناظر میں BSP کی تشکیل کو اسرائیل کی طرف سے بلوچ قومی جدوجہد کو اپنے جیو پولیٹیکل مقاصد کے لیے ہائی جیک کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، بالخصوص ایران اور پاکستان کے خلاف۔ اگر اسرائیل اس جدوجہد کو کامیابی سے اپنے حق میں موڑ لیتا ہے، تو یہ نہ صرف اسے خطے میں بڑی حکمتِ عملی فوائد دے گا بلکہ فلسطینیوں اور بلوچوں جیسے بے ریاست مزاحمتی گروہوں کی حقیقی جدوجہد کو بھی زک پہنچائے گا۔ یہی وہ پہلو ہے جو قومی آزادی کی تحریکوں میں محض جیو پولیٹکس پر انحصار کی محدودیت کو واضح کرتا ہے۔

MEMRI کے BSP منصوبے کا اعلان کئی منطقی تضادات اور بلوچستان کی حقیقتوں سے لاعلمی پر مبنی ہے۔ مثال کے طور پر، وہ ایران اور پاکستان کی طرف سے بلوچستان میں جاری انسدادِ بغاوت مہمات کو بنیاد بنا کر "بین الاقوامی برادری” سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بلوچستان کو "مغرب کا قدرتی اتحادی” سمجھے—حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مغربی کمپنیاں جیسے بیرک گولڈ اور بی ایچ پی بلٹن خود اسی استحصالی نظام کا حصہ رہی ہیں جو بلوچستان میں وسائل کی نوآبادیاتی لوٹ مار اور ماحولیاتی تباہی کا باعث بنا ہے۔

ایک اور متنازع نکتہ BSP سے منسلک افراد سے متعلق ہے۔ MEMRI کی ویب سائٹ پر شائع ایک مضمون میں "معروف بلوچ مصنف، اسکالر اور سیاسی سائنس دان” میر یار بلوچ کو "خصوصی مشیر” کے طور پر خوش آمدید کہا گیا ہے۔ ان کے X اکاؤنٹ کو "برصغیر کے سب سے بااثر” اکاؤنٹس میں شمار کیا گیا ہے۔ مئی 2025 میں، میر یار بلوچ نے یکطرفہ طور پر بلوچستان کی آزادی کا اعلان کر کے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو یقین دلایا کہ "60 ملین بلوچ محب وطن” ان کی پشت پر ہیں، خاص طور پر آپریشن سندور کے آغاز کے وقت۔

تاہم ان دعوؤں سے زیادہ میر یار بلوچ کی اصل شناخت پر چھائے ہوئے پردے نے زیادہ تجسس پیدا کیا ہے۔ اگرچہ مختلف بھارتی ذرائع ابلاغ نے انہیں نمایاں کوریج دی، مگر ان سب میں ان کا وہی مختصر تعارف دہرایا گیا جو MEMRI نے پیش کیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ بلوچ تحریک کے معروف رہنما ان سے فوری طور پر لاتعلقی ظاہر کر چکے ہیں۔ مثال کے طور پر بلوچ نیشنل موومنٹ کے نیاز بلوچ نے X پر کہا کہ آزادی کے کسی اعلان پر بلوچ قیادت میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہے۔ انہوں نے چار "جعلی اکاؤنٹس” کی فہرست بھی دی، جن میں میر یار بلوچ کا نام بھی شامل تھا، اور مطالبہ کیا کہ انہیں فوراً رپورٹ کر کے ان فالو کیا جائے۔ اس تناظر میں کئی بلوچ کارکنوں کا خیال ہے کہ میر یار بلوچ ایک مفاد یافتہ ریاست کی طرف سے تخلیق کردہ ایک جعلی کردار ہیں۔

بلوچستان وہ خطہ ہے جو ایران اور پاکستان کی سرحد پر واقع ہے، جہاں دونوں ریاستیں انسدادِ بغاوت مہمات میں مصروف ہیں اور ایک دوسرے پر سرحد پار دہشت گرد گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات لگاتی رہی ہیں۔ بلوچ عوام کی اکثریت ان دونوں ریاستوں کے زیر اقتدار خود کو محروم اور منظم ریاستی جبر کا شکار سمجھتی ہے۔

ایسے میں اسرائیل کی طرف سے بلوچ تحریک کی حمایت کے اشارے خطے میں اسرائیلی اثر و رسوخ بڑھانے کا ایک نیا راستہ کھول سکتے ہیں۔ ایران کی ریاستی اور سلامتی ڈھانچے میں اسرائیلی مداخلت کا ایک مظہر 13 جون کے واقعات میں سامنے آیا، جبکہ بلوچوں کی حمایت کا اعلان اسرائیل کو ان علاقوں میں علیحدگی پسند گروہوں سے تعلقات بنانے کا موقع دیتا ہے جہاں ایران اور پاکستان کی سیاسی عمل داری کمزور ہے۔ اسرائیل کی کوشش فلسطینی مزاحمت کو دبانے کے ساتھ ساتھ دیگر بے ریاست اقوام، جیسے بلوچوں، کے ساتھ یکجہتی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کی طرف بھی ایک قدم ہے۔

اسرائیلی اقدامات کو اس کے بھارت کے ساتھ اسٹریٹیجک اتحاد کی روشنی میں بھی دیکھنا چاہیے، جو طویل عرصے سے بلوچ کاز کا حامی رہا ہے—یہی حمایت کشمیریوں اور بلوچوں کے درمیان یکجہتی کی راہ میں ایک رکاوٹ رہی ہے، کیونکہ بھارت خود کشمیریوں پر جبر کرتا ہے۔ میر یار بلوچ، جو اسرائیل اور بھارت کی کھل کر حمایت کرتے ہیں، ان کا پورا میڈیا پروفائل بھارتی میڈیا کی دین ہے، اور ان کی تقاریر و بیانات بھی زیادہ تر بھارتی عوام کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ BSP، اس لحاظ سے، بھارت اور اسرائیل کی شراکت داری کا ایک مظہر ہے، جو دونوں ممالک کے علاقائی اثر و رسوخ کو جوڑ کر پیش کرتی ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ مزاحمت کی منصوبہ بندی میں جیو پولیٹکس کی اہمیت نہیں، لیکن اسے مطلق ترجیح دینا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ "میرے دشمن کا دشمن میرا دوست ہے” کا فلسفہ بعض اوقات اصولی اور دیرپا اتحادوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ تاریخ ہمیں خبردار کرتی ہے: فلسطینی تنظیم PLO کا صدام حسین کے عراق کے ساتھ اتحاد—جسے صادق العظم نے "بے اصول” قرار دیا تھا—نے کردوں کو بدظن کیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل اور کردستان ریجنل گورنمنٹ کے درمیان تعلقات بہتر ہوئے۔ حالیہ برسوں میں ایران نے اسرائیل سے جنگ کے بعد کرد—اور کسی حد تک بلوچ—گروہوں پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ان کے اسرائیل سے ممکنہ تعلقات کو جواز بنایا۔

لہٰذا بے ریاست اقوام کو ایک "ما بعد جیو پولیٹیکل” خارجہ پالیسی اپنانی چاہیے، جو اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ قومی ریاستوں کی فطری ترجیح اپنی بقا اور مفادات کی حفاظت ہوتی ہے، نہ کہ اصولی عدل پر مبنی جدوجہد۔ اس تناظر میں ایک اصولی، نوآبادیات مخالف بین الاقوامی اور مابین الاقوامی یکجہتی کوئی خیالی تصور نہیں، بلکہ ایک عملی طویل المدتی حکمتِ عملی ہے جو وقتی جیو پولیٹیکل مفادات سے بالاتر ہو کر اصولی اتحادوں کی بنیاد رکھتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین