جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامییورپی تقسیم کے بیچ پرتگال کا فلسطین کو تسلیم کرنے پر غور

یورپی تقسیم کے بیچ پرتگال کا فلسطین کو تسلیم کرنے پر غور
ی

لزبن (مشرق نامہ) – پرتگال نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن یکطرفہ فیصلوں کی بجائے یورپی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کو ترجیح دی ہے۔

پرتگال کے وزیر خارجہ پاؤلو رانژیل نے جمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ان کا ملک فلسطینی ریاست کے اعتراف کے لیے ہمیشہ سے کھلا رہا ہے اور اب بھی تیار ہے، تاہم اس میں یورپی یونین کے شراکت داروں سے رابطہ و ہم آہنگی کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ستمبر 2025 میں فلسطین کو باضابطہ تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد پرتگال کے بیان کو ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ میکرون کے اس فیصلے سے فرانس جی سیون (G7) میں پہلا ملک بنے گا جو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔

پاؤلو رانژیل نے واضح کیا کہ پرتگال ایک خودمختار ملک ہے اور اس کی خارجہ پالیسی دوسرے ممالک سے متعین نہیں ہوتی، تاہم ان کا اصرار تھا کہ ان کی حکومت فلسطین کے معاملے پر ایک "مشترکہ راہ” کی تلاش میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

پرتگال 28 سے 30 جولائی تک نیویارک میں ہونے والے اس اجلاس میں شریک ہوگا جس کی میزبانی فرانس اور سعودی عرب کر رہے ہیں اور جس کا مقصد اسرائیل-فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کو آگے بڑھانا ہے۔

پرتگال کی سفارتی حکمت عملی

پرتگال کی حکمت عملی یورپی یونین کے اندر اتفاق رائے کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کو ظاہر کرتی ہے۔ اسپین کے برعکس، جس نے حال ہی میں دوطرفہ اقدام کے تحت فلسطین کو تسلیم کیا، پرتگال زیادہ تر یورپی سطح یا کثیرالطرفہ فیصلوں کا حامی دکھائی دیتا ہے۔

اگرچہ پرتگالی پارلیمان کئی بار فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی قراردادیں منظور کر چکی ہے، موجودہ قدامت پسند حکومت مزید یورپی مشاورت پر زور دیتی ہے۔ پرتگال نے اسرائیلی بستیوں کی مذمت کرنے والے 24 ممالک کے ساتھ شامل ہو کر جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور فلسطینیوں کی امداد کے لیے اقوام متحدہ کے اداروں کو کروڑوں یورو فراہم کیے ہیں۔

یورپی یونین میں تقسیم

جولائی 2025 تک یورپی یونین کے 12 ممالک فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر چکے ہیں، لیکن یہ اعترافات ایک غیر متفق اور منقسم یورپی پالیسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ مغربی یورپ میں حالیہ اقدامات میں ناروے، آئرلینڈ، اسپین اور سلووینیا کی جانب سے تسلیم کرنا شامل ہے، جو سویڈن کی 2014 میں کی گئی پہلی پہل کے بعد سامنے آئے ہیں۔

مشرقی یورپ کے کئی ممالک جیسے پولینڈ، ہنگری، رومانیہ، سلواکیہ، بلغاریہ، چیکیا اور قبرص نے پہلے ہی 1988 کے بعد فلسطین کو تسلیم کر لیا تھا۔ یورپی یونین سے باہر آئس لینڈ اور میکسیکو جیسے مغربی ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

دوسری طرف جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور اٹلی جیسے اہم یورپی ممالک یکطرفہ اعتراف کے مخالف ہیں اور "اسرائیل” کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ آسٹریا، بیلجیئم، ڈنمارک، فن لینڈ، یونان اور سوئٹزرلینڈ بھی اسی موقف کے حامل ہیں۔ مغربی اتحادیوں میں امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان اب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کرتے۔

اعترافِ فلسطین کی بڑھتی لہر

اگرچہ تقسیم موجود ہے، مگر فلسطین کو تسلیم کرنے کی عالمی لہر زور پکڑ رہی ہے۔ بیلجیئم، مالٹا اور لکسمبرگ جیسے ممالک ممکنہ طور پر فرانس کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں۔ برطانیہ کی نئی حکومت نے بھی عندیہ دیا ہے کہ "مناسب وقت پر” وہ فلسطین کو تسلیم کرنے پر تیار ہو سکتی ہے، بشرطیکہ یہ کسی مذاکراتی فریم ورک کا حصہ ہو۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین