مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – شمالی نائجیریا میں غذائی قلت سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران چھ سو سے زائد بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی تنظیم "ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز” (MSF) نے اس اندوہناک صورت حال کو امدادی فنڈز کی شدید کمی، مہنگائی اور صحت کے بگڑتے ڈھانچے سے جڑا ہوا قرار دیا ہے۔
MSF کی رپورٹ کے مطابق، جنوری سے جون 2025 تک ان کے مراکز میں شدید غذائی قلت اور سوجن (nutritional oedema) کے کیسز میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 208 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
"بدقسمتی سے، 2025 کے آغاز سے اب تک 652 بچے ہمارے مراکز میں بروقت علاج نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں”، MSF نے جمعے کے روز بیان میں کہا۔
نائجیریا میں غذائی بحران شدت اختیار کر گیا
شمالی نائجیریا اس وقت تاریخ کے بدترین غذائی بحران سے گزر رہا ہے۔ تازہ ترین "کادری ہارمونی زے” (Cadre Harmonisé) رپورٹ کے مطابق، ملک کی 26 ریاستوں میں تقریباً 3 کروڑ 6 لاکھ افراد جون سے اگست کے درمیان شدید غذائی و غذائیتی عدم تحفظ کا سامنا کریں گے — جو آسٹریلیا کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔
ان میں 5.44 ملین پانچ سال سے کم عمر بچے شامل ہیں، جن میں سے دو ملین سے زائد ایسے ہیں جنہیں زندگی بچانے کے لیے فوری علاج درکار ہے۔
MSF نے خاص طور پر شمال مغربی ریاست "کتسینا” (Katsina) میں انتہائی تشویشناک صورت حال کی نشاندہی کی، جہاں جون تک 70 ہزار بچوں کا غذائی قلت کے لیے علاج کیا گیا، جن میں سے 10 ہزار کی حالت نازک تھی۔ ایک سروے میں شامل 750 ماؤں میں سے نصف سے زائد شدید غذائی قلت کا شکار تھیں، جب کہ 13 فیصد کو اس کی انتہائی شدید قسم لاحق تھی۔
عالمی امداد کی معطلی کے سنگین اثرات
بحران کی شدت میں بین الاقوامی امداد میں کٹوتیوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ جولائی 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک قانون پر دستخط کیے جس کے تحت 9 ارب ڈالر کی غیرملکی امداد منسوخ کی گئی، جن میں سے 8 ارب ڈالر براہ راست بیرونی امدادی پروگراموں کو متاثر کرتے ہیں۔
امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کی 63 سال بعد یکم جولائی کو بندش نے شمال مشرقی نائجیریا میں تباہ کن اثرات مرتب کیے، جہاں USAID خوراک، پناہ گاہ اور صحت کی سہولیات فراہم کر رہا تھا۔
یورپی ممالک نے بھی اسی طرز پر امداد میں کمی کی — برطانیہ، فرانس اور بیلجیم جیسے ممالک کی امداد میں کٹوتی نے انسانی ہمدردی کی کوششوں کو مزید کمزور کر دیا۔ MSF اور دیگر تنظیموں نے "بجٹ میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں” کی شکایت کی، جن کی وجہ سے زندگی بچانے والے اقدامات میں واضح کمی آئی۔
اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک (WFP) خبردار کر چکا ہے کہ جولائی کے آخر تک شمال مشرقی نائجیریا میں 13 لاکھ افراد کے لیے تمام ہنگامی خوراک اور غذائیتی امداد معطل کی جا سکتی ہے۔ نائجیریا کے لیے WFP کی 130 ملین ڈالر کی اپیل صرف 21 فیصد پوری ہو سکی ہے، جس کے باعث بورنو اور یووبے ریاستوں میں 150 سے زائد غذائیتی مراکز بند کیے جا چکے ہیں۔
فوری بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت
MSF نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران کی شدت "تمام پیش گوئیوں سے زیادہ” ہے، اور مزید ہلاکتوں سے بچنے کے لیے فوری عالمی ردِعمل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اگرچہ ملک کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں سیکیورٹی خدشات موجود ہیں، تاہم امدادی اداروں کے مطابق اس وقت بحران کی بنیادی وجوہات اقتصادی زوال، مہنگائی، موسمیاتی اثرات اور عالمی امداد کی واپسی ہیں۔

