جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیسید سیستانی کا غزہ میں قحط پر فوری اقدام کا مطالبہ

سید سیستانی کا غزہ میں قحط پر فوری اقدام کا مطالبہ
س

نجف اشرف (مشرق نامہ) – عراق کی اعلیٰ ترین مذہبی اتھارٹی آیت اللہ العظمیٰ سید علی الحسینی السیستانی نے جمعہ کے روز ایک بیان میں غزہ کی تباہ کن انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا ہے، بالخصوص ان بچوں، مریضوں اور بزرگوں کی حالت کے پیش نظر جو شدید قحط کا شکار ہیں۔

سید السیستانی نے کہا کہ فلسطینی عوام مسلسل تقریباً دو سال سے قتل و غارت اور تباہی کے بعد اب "انتہائی ہولناک حالات” میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور قحط کا دائرہ اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ آبادی کا کوئی طبقہ اس سے محفوظ نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ اگر قابض افواج سے فلسطینی عوام کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی اس حیوانی درندگی کے سوا کچھ اور توقع نہیں کی جا سکتی، تو دنیا کے ممالک، بالخصوص عرب اور اسلامی اقوام سے ضرور یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس عظیم انسانی سانحے کو جاری نہ رہنے دیں۔

سید السیستانی نے عالمی سطح پر اس بحران کو روکنے کی کوششوں میں شدت لانے پر زور دیتے ہوئے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قابض حکومت اور اس کے پشت پناہوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ غزہ کے محصور شہریوں کو خوراک اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں پھیلتی بھوک کے وہ ہولناک مناظر، جو میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے آ رہے ہیں، کسی بھی صاحبِ ضمیر انسان کے لیے یہ ممکن نہیں چھوڑتے کہ وہ سکون سے کھا پی سکے۔

غزہ میں قحط سنگین تر، امداد کی راہ مسدود

سید السیستانی کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں قحط تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انسانی امدادی اداروں نے انتباہ دیا ہے کہ غذائی قلت اور قحط سے متعلقہ اموات میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً پانچ لاکھ افراد اس وقت قحط کی شدید ترین سطح پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

امدادی تنظیموں نے رپورٹ کیا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایک سو سے زائد فلسطینی—جن میں اکثریت بچوں کی ہے—بھوک سے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ طبی مراکز ہزاروں شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کے علاج کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

اس دوران اسرائیلی افواج کی جانب سے امدادی قافلوں کی راہ میں رکاوٹیں اور ان پر حملے بھی جاری ہیں، جس کے باعث شمالی اور وسطی غزہ تک امداد کی فراہمی نہایت مشکل ہو چکی ہے۔

بین الاقوامی تنظیم "ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز” (MSF) سمیت کئی دیگر ایجنسیوں نے اس بحران کو "انسانی ساختہ قحط” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ محاصرہ فوری طور پر ختم کیا جائے اور انسانی زندگیوں کو بچایا جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین