مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری انسانی المیے پر عالمی برادری کی بے حسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے صرف ایک انسانی بحران نہیں، بلکہ ایک ’’اخلاقی بحران‘‘ قرار دیا ہے، جو پوری دنیا کے ضمیر کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔
جمعے کے روز ایک ورچوئل خطاب میں گوتریس نے کہا کہ میں اُس بے رحمی اور لاتعلقی کی کوئی توجیہہ نہیں دے سکتا جو ہم بین الاقوامی برادری کے بہت سے افراد کی جانب سے دیکھ رہے ہیں — یہ ہمدردی کا فقدان ہے، سچائی کا فقدان ہے، انسانیت کا فقدان ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف انسانی بحران نہیں بلکہ اخلاقی بحران ہے، جو عالمی ضمیر کو چیلنج کر رہا ہے۔ ہم ہر موقع پر اس پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے غزہ میں بچوں کی حالتِ زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بچے جنت جانے کی خواہش کرتے ہیں، کیونکہ وہ کہتے ہیں وہاں کم از کم کھانا تو ہوتا ہے۔ ہم اپنے عملے سے ویڈیو کالز پر بات کرتے ہیں جنہیں خود ہمارے سامنے بھوک کا سامنا ہے… مگر یاد رکھیے، الفاظ بھوکے بچوں کا پیٹ نہیں بھرتے۔
گوتریس نے اس بات پر شدید مذمت کی کہ 27 مئی سے اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی صرف کھانے کی امداد تک رسائی کی کوشش میں قتل کر دیے گئے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ ادارے "غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن” (GHF) نے امدادی سرگرمیوں کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروہ حماس کے درمیان جنگ بندی طے پا جائے، تو اقوامِ متحدہ "غزہ میں انسانی امدادی کارروائیوں کو ڈرامائی انداز میں وسعت دینے” کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
ادھر انسانی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی محاصرے کے نتیجے میں غذائی قلت کے کیسز — خصوصاً بچوں میں — مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
اب غزہ میں جو معمولی امداد داخل ہو رہی ہے، وہ مکمل طور پر اسرائیل-امریکہ کی سرپرستی میں قائم GHF کے کنٹرول میں ہے، جس نے اقوامِ متحدہ کی طویل عرصے سے قائم امدادی تقسیم کے نظام کی جگہ لے لی ہے۔
اقوامِ متحدہ اور کئی بین الاقوامی امدادی اداروں نے GHF کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا ہے، ان کا مؤقف ہے کہ یہ ادارہ اسرائیلی فوجی مقاصد کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔
بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (ICRC) کی صدر میرجانا اسپلویارک نے جمعے کو کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے لیے کوئی جواز نہیں۔ انسانی تکالیف کی شدت اور انسانی وقار کی پامالی ہر قانونی اور اخلاقی معیار سے بہت آگے نکل چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ICRC کے غزہ میں 350 سے زائد اہلکار موجود ہیں، جن میں سے بیشتر خود بھی خوراک اور صاف پانی کی قلت کا شکار ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، اب تک غذائی قلت کے باعث 123 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 83 بچے شامل ہیں۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل نے غزہ پر اپنی نسل کش جنگ مسلط کر رکھی ہے، جس میں اب تک 59,676 فلسطینی شہید اور 143,965 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

