غزه (مشرق نامہ) – غزہ میں حکومتی میڈیا دفتر نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ امدادی محاصرے کے نتیجے میں بچوں کے لیے دودھ کی سپلائی ختم ہو چکی ہے، جس سے دو سال سے کم عمر کے ایک لاکھ سے زائد بچوں — جن میں 40 ہزار شیر خوار بھی شامل ہیں — کے آئندہ چند دنوں میں اجتماعی موت کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔
حکام کے مطابق، اسپتال روزانہ سینکڑوں شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کا اندراج کر رہے ہیں، مگر صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور ان بچوں کو کوئی خاطرخواہ طبی سہولت فراہم نہیں کی جا پا رہی۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اب تک محاصرے کے دوران بھوک کے باعث کم از کم 123 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں 83 بچے شامل ہیں۔
حکومتی میڈیا دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ ہم ایک ایسی متوقع اور دانستہ اجتماعی ہلاکت کا سامنا کر رہے ہیں جو ان شیر خوار بچوں پر آہستہ آہستہ مسلط کی جا رہی ہے، جن کی مائیں گزشتہ کئی دنوں سے ان کو دودھ کے بجائے صرف پانی پلا رہی ہیں۔
بیان میں اسرائیلی پالیسی کو "بھوک و نسل کشی پر مبنی” قرار دیا گیا۔
عہدے داروں نے فوری مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے دودھ کا داخلہ فوری یقینی بنایا جائے، تمام گزرگاہیں بغیر کسی شرط کے کھولی جائیں، اور محاصرہ مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
حکام نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں، بالخصوص امریکہ اور یورپی ممالک کو اس المیے کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی برادری خاموش رہی تو وہ اس جرم میں برابر کی شریک سمجھی جائے گی۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 2 مارچ کو غزہ کی پٹی میں تمام انسانی امداد کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔ اگرچہ مئی کے آخر سے چند امدادی قافلے داخل ہوئے، لیکن انسانی امداد تک رسائی اب بھی شدید طور پر محدود ہے۔
غزہ میں غذائی قلت اور بیماریوں نے شدت اختیار کر لی ہے۔ دسیوں ہزار بچے بھوک، پانی کی کمی اور ناقص تغذیہ کے سبب موت کے دہانے پر ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے مطابق، گزشتہ ماہ غزہ میں 5,800 سے زائد بچوں میں غذائی قلت کی تشخیص ہوئی، جن میں ایک ہزار سے زائد بچے شدید اور شدید ترین غذائی قلت (Severe Acute Malnutrition) کا شکار ہیں۔
خوراک سے متعلق بین الاقوامی تنظیم "Integrated Food Security Phase Classification (IPC)” کے مطابق، غزہ کے تمام بڑے علاقے اس وقت مرحلہ 4 قحط (یعنی ہنگامی سطح) پر پہنچ چکے ہیں۔ اس سطح کا مطلب یہ ہے کہ گھرانوں کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے، غذائی قلت اور اموات کی شرح بہت زیادہ ہے، اور عوام صرف فوری اور غیر پائیدار ذرائع سے کسی حد تک اس بحران کو ٹالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کے خلاف اپنی نسل کش جنگ کا آغاز کیا تھا، جس میں اب تک 59,676 فلسطینی شہید اور 143,965 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
غزہ کی پوری آبادی کم از کم ایک بار اپنے گھر سے بے دخل ہو چکی ہے اور اس وقت وہ انتہائی گنجان آباد پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہے جہاں بنیادی انسانی ضروریات تک دستیابی نہیں۔

