جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیزاہدان کی عدالت پر دہشت گرد حملہ: چھ افراد شہید، بائیس زخمی

زاہدان کی عدالت پر دہشت گرد حملہ: چھ افراد شہید، بائیس زخمی
ز

تہران (مشرق نامہ) – ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان و بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان میں ہفتے کے روز مسلح دہشت گردوں نے ایک عدالت پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور ایک ایک سالہ بچے سمیت چھ افراد شہید اور 22 زخمی ہو گئے۔

دہشت گرد گروہ "جیش العدل” نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ایرانی سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو جھڑپ کے دوران ہلاک کر دیا۔

عدالت کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی ٹیم کے تین اہلکار عمارت کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو عدالت کے اندر اور اطراف میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

صوبہ سیستان و بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ڈپٹی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علیرضا دلیری نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آور صہیونی حکومت سے وابستہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ آج صبح ساڑھے آٹھ بجے، ایک دہشت گرد سیل جو صہیونی حکومت سے منسلک تھا، زاہدان میں واقع عدلیہ کی عمارت میں عام شہریوں کا بھیس بدل کر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن موقع پر موجود سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور چوکنا کارروائی نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

دلیری نے مزید بتایا کہ بدقسمتی سے، حملے کے دوران ایک دہشت گرد نے عدالت کی عمارت میں دستی بم پھینک دیا، جس کے نتیجے میں متعدد شہری شہید ہو گئے، جن میں ایک سالہ بچہ اور ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، شہید بچے کی والدہ شدید زخمی حالت میں بچ گئیں۔

بریگیڈیئر دلیری نے کہا کہ جھڑپ کے دوران ایک دہشت گرد موقع پر ہی مارا گیا، جبکہ باقی دہشت گردوں کو بعد میں ختم کر دیا گیا اور پورے سیل کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ رواں برس اپریل میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کی زمینی افواج نے سیستان و بلوچستان میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے دوران جیش العدل کو شدید نقصان پہنچایا تھا اور اس گروہ کے ایک اہم سرغنہ کو ہلاک کر دیا تھا۔

پاکستان سے متصل صوبہ سیستان و بلوچستان میں گزشتہ برسوں کے دوران کئی دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں جن میں سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ان حملوں میں ملوث دہشت گرد گروہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایران میں غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے آلہ کار سمجھے جاتے ہیں۔

گزشتہ برس 26 اکتوبر کو صوبے کے علاقے تفتان کی گوہر کوہ تحصیل میں دہشت گردوں کے ایک حملے میں ایران کے 10 قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ یہ حملہ حالیہ مہینوں میں صوبے میں ہونے والے مہلک ترین واقعات میں سے ایک تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری بھی جیش العدل نے قبول کی تھی۔ یہ گروہ ایران میں بالخصوص سیستان و بلوچستان میں کئی دہشت گرد کارروائیاں کر چکا ہے، جن میں بارڈر گارڈز کا اغوا، پولیس اسٹیشنوں پر حملے، اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہے — جس کا مقصد صوبے میں بدامنی اور انتشار پھیلانا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین