جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیحماس کا امریکہ پر جوابی وار: اصل رکاوٹ نیتن یاہو

حماس کا امریکہ پر جوابی وار: اصل رکاوٹ نیتن یاہو
ح

غزه (مشرق نامہ) – فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے جنگ بندی سے متعلق مذاکرات میں اپنی پوزیشن کو مسخ کرنے پر امریکی حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی کابینہ ہے۔

حماس کے سیاسی دفتر کے رکن عزت الرشق نے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان میں کہا کہ ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس سے قبل خصوصی ایلچی وٹکوف کے اُن بیانات پر سخت حیرت زدہ ہیں جو ثالثوں کی رائے کے برعکس ہیں۔

ٹرمپ نے جمعے کے روز غزہ میں قائم اس مزاحمتی گروہ کو جنگ بندی مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اس کا شکار کیا جائے گا۔

اس سے ایک روز قبل، امریکی ایلچی وٹکوف نے بھی کہا تھا کہ واشنگٹن اب مذاکرات میں مزید کردار ادا نہیں کرے گا کیونکہ حماس نے جنگ بندی کے حصول کی خواہش کا مظاہرہ نہیں کیا۔

الزشق کے مطابق، یہ بیانات ان مذاکرات کی اصل پیش رفت کے منافی ہیں جنہیں ثالثوں، خصوصاً قطر اور مصر، نے تسلیم کرتے ہوئے حماس کے سنجیدہ اور تعمیری رویے کو سراہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی بیانات ان حقائق کو جان بوجھ کر نظرانداز کرتے ہیں کہ تمام معاہدوں کی راہ میں اصل رکاوٹ نیتن یاہو کی کابینہ ہے، جو تسلسل کے ساتھ رکاوٹیں ڈالتی، دھوکہ دیتی اور وعدوں سے پہلوتہی کرتی ہے۔

عزت الرشق نے واضح کیا کہ حماس ابتدا ہی سے ذمہ دارانہ اور لچکدار انداز میں مذاکرات کر رہی ہے تاکہ جنگ کا خاتمہ ہو اور غزہ کے عوام کی مشکلات کا مداوا ہو۔

انہوں نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حماس امداد چوری کر رہی ہے جیسے دعوے بے بنیاد ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے رائٹرز کی اس رپورٹ کا حوالہ دیا جس نے امریکی دعووں میں موجود سقم کو بے نقاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے حماس پر امداد چوری کا الزام تو عائد کیا لیکن کوئی بصری ثبوت پیش نہ کیا، جبکہ غزہ میں امداد چوری کے 156 میں سے کم از کم 44 واقعات اسرائیلی فوجی اقدامات کے نتیجے میں پیش آئے۔

انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی ریاست کو کلین چٹ دینا بند کرے اور دو ملین سے زائد غزہ کے باسیوں کے خلاف جاری نسل کشی اور بھوک کا سیاسی و عسکری تحفظ فراہم کرنا ترک کرے۔

حماس کے اس رہنما نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی حکومت پر حقیقی دباؤ ڈالے تاکہ جارحیت کا خاتمہ اور قیدیوں کے تبادلے پر کوئی بامعنی پیش رفت ممکن ہو۔

قطر میں جاری بالواسطہ مذاکرات کے باوجود اب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ اگرچہ تل ابیب حماس پر مذاکرات طول دینے کا الزام عائد کرتا ہے، تاہم حماس کا کہنا ہے کہ اصل رکاوٹ اسرائیل ہے جو ایک پائیدار جنگ بندی کے لیے ضروری بنیادی شرائط کو مسترد کر رہا ہے۔

مذاکراتی خاکے میں قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل ہے جن میں وہ اسرائیلی شہری بھی شامل ہیں جو 7 اکتوبر 2023 کو غزہ منتقل کیے گئے تھے۔ ان میں سے 251 افراد میں سے اب بھی 49 غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے اسرائیلی فوج کا ماننا ہے کہ 27 ہلاک ہو چکے ہیں۔

قابض حکومت کی شرط ہے کہ حماس کی عسکری اور حکومتی ساخت کو مکمل طور پر تحلیل کیا جائے، جبکہ حماس کا اصرار ہے کہ جنگ بندی کی پائیداری کی ضمانت، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا، اور امدادی سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔

اگرچہ اسرائیلی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ قطری اور امریکی دونوں مجوزہ منصوبوں کو قبول کر چکی ہے، لیکن زمینی حقائق اب بھی کسی پیش رفت کی راہ میں حائل ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین