جمعرات, فروری 19, 2026
ہومپاکستان’قاتل سڑک‘ کی بحالی کیلئے 415 ارب روپے منظور

’قاتل سڑک‘ کی بحالی کیلئے 415 ارب روپے منظور

اسلام آباد – وفاقی حکومت نے بلوچستان ایکسپریس وے (N-25) یعنی ’قاتل سڑک‘ کے تین اہم حصوں کی تعمیر کی مشروط منظوری دے دی ہے، جس کی کل لاگت 415 ارب روپے رکھی گئی ہے۔ منصوبے کی فنڈنگ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے نافذ کردہ 8 روپے فی لیٹر پیٹرول و ڈیزل لیوی سے کی جائے گی۔

وزارت منصوبہ بندی کے مطابق 692 کلومیٹر طویل ان تین حصوں کی تعمیر کا مقصد کراچی سے کوئٹہ اور چمن تک دو رویہ سڑک کی فراہمی ہے، جو نہ صرف سفر کو محفوظ بنائے گی بلکہ خطے میں معاشی ترقی کے دروازے بھی کھولے گی۔

منصوبے کی منظوری سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) کے اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔ تاہم یہ منصوبہ ایکنک (ECNEC) کی حتمی منظوری سے مشروط ہے، جہاں وزارت مواصلات کو منصوبے سے متعلق کچھ نکات واضح کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

تین اہم حصے:

  1. کراچی-کوئٹہ-چمن روڈ (278 کلومیٹر):
    تخمینہ لاگت: 183.4 ارب روپے، مکمل ہونے کی مدت: 3 سال۔
    رواں سال کے لیے مختص بجٹ: 33 ارب روپے۔
  2. خضدار-کوچلاک سیکشن (332 کلومیٹر):
    تخمینہ لاگت: 99 ارب روپے۔
    پہلے سے 52% کام مکمل، باقی دو سال میں مکمل ہونے کا امکان۔
  3. کارو وڈھ اور خضدار-چمن سیکشن (104 کلومیٹر):
    تخمینہ لاگت: 133 ارب روپے۔
    رواں سال کے لیے مختص بجٹ: 33 ارب روپے۔

حکومت پر تنقید اور ردعمل:

وزیر اعظم شہباز شریف نے رواں سال اپریل میں پیٹرول و ڈیزل پر اضافی لیوی نافذ کی، جس پر تنقید کی گئی کہ عوام پہلے ہی مہنگائی کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ تاہم وزیر اعظم نے اسے بلوچستان کے عوام کی خواہشات کا عکاس قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سڑکیں نہ صرف ترقی بلکہ محفوظ سفر کو بھی یقینی بنائیں گی۔

رواں مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 1,000 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 210 ارب روپے بلوچستان کے منصوبوں کے لیے مختص ہیں۔

یہ منصوبہ بلوچستان میں مواصلاتی رابطوں کے فروغ، حادثات میں کمی اور علاقائی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا، بشرطیکہ فنڈز بروقت فراہم کیے جائیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین