مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)وفاقی حکومت نے "آف دی گرڈ کپٹو پاور پلانٹس لیوی ایکٹ 2025” کے تحت کپٹو پاور پلانٹس کو فراہم کی جانے والی گیس پر 238 روپے فی MMBTU کی نئی لیوی نافذ کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے سات ارب ڈالر کے پروگرام کی شرائط کو پورا کرنا اور ملک بھر میں بجلی کے نرخوں میں کمی لانا ہے۔
یہ لیوی اُن صنعتوں پر لاگو ہو گی جو اپنی بجلی خود پیدا کرتی ہیں، اور یہ قدرتی گیس و آر ایل این جی دونوں پر، مقررہ قیمتوں کے علاوہ وصول کی جائے گی۔ لیوی کی وصولی سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGC) کے ذریعے کی جائے گی۔
حکام کے مطابق، پہلے مرحلے میں حاصل ہونے والی آمدنی سے گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ تقریباً 0.90 روپے کمی کی جائے گی۔ لیوی کو مرحلہ وار اگست 2026 تک 20 فیصد تک بڑھایا جائے گا، جس سے توانائی کے شعبے کو اضافی وسائل اور ملکی مالیاتی نظام کو استحکام حاصل ہو گا۔
حالیہ مہینوں میں کپٹو پاور پلانٹس کے لیے گیس نرخ پہلے ہی بڑھا کر 3,500 روپے فی MMBTU کر دیے گئے ہیں، جو فروری 2025 میں 3,000 روپے تھے۔ یہ اضافی لاگت صنعتوں کو سستی خود ساختہ توانائی سے ہٹا کر قومی گرڈ سے بجلی حاصل کرنے پر مجبور کرے گی، تاکہ قدرتی گیس کے استعمال میں کمی اور توانائی تقسیم کے نظام میں بہتری لائی جا سکے۔

