اسلام آباد (مشرق نامہ)– سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے نصاب اور درسی کتب کی نگرانی سے متعلق اہم بل کی منظوری دے دی ہے۔ یہ بل "نیشنل بک فاؤنڈیشن (ترمیمی) بل 2024” کے تحت پیش کیا گیا، جس کا مقصد ملک بھر میں تعلیمی نصاب اور درسی مواد پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔ بل کے مطابق نیشنل بک فاؤنڈیشن کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتب اور تعلیمی مواد کا جائزہ لے اور ان میں پائے جانے والے غیر متعلقہ، غیر مستند یا متنازع مواد کو ہٹانے کے لیے اقدامات کرے۔
اجلاس کی صدارت سینیٹر عرفان صدیقی نے کی، جس میں وفاقی وزیر تعلیم، اعلیٰ حکام اور کمیٹی ارکان نے شرکت کی۔ سینیٹرز نے بل کو ملک میں یکساں اور معیاری نظام تعلیم کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ کمیٹی نے زور دیا کہ درسی کتب میں قومی بیانیے، آئین پاکستان، اسلامی اقدار، اور سائنسی و عقلی سوچ کو فروغ دیا جائے۔
بل کی منظوری سے نہ صرف وفاقی سطح پر درسی کتب کی تیاری اور اشاعت کے عمل میں شفافیت آئے گی بلکہ اس سے ایسے مواد کی اشاعت کی روک تھام بھی ممکن ہو گی جو سماجی، مذہبی یا نظریاتی لحاظ سے حساس ہو۔ اب یہ بل منظوری کے لیے سینیٹ کے فلور پر پیش کیا جائے گا، جہاں اس پر مزید بحث کے بعد حتمی منظوری متوقع ہے۔

