جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیپاک امریکہ تجارتی معاہدہ جلد متوقع ہے، اسحاق ڈار

پاک امریکہ تجارتی معاہدہ جلد متوقع ہے، اسحاق ڈار
پ

واشنگٹن(مشرق نامہ) اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ ایک اہم تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اور یہ معاہدہ چند دنوں میں طے پا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم مہینوں یا ہفتوں نہیں، بلکہ دنوں کی بات کر رہے ہیں۔”

ڈار نے ان خیالات کا اظہار امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے معاہدے کی کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان امریکہ سے امداد نہیں، بلکہ تجارت چاہتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان امریکی مصنوعات کو اپنی منڈیوں تک رسائی دینے کا خواہشمند ہے اور کان کنی کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہے گا۔

پاک-بھارت تعلقات پر بات کرتے ہوئے ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کو الزام تراشی چھوڑ کر اعتماد سازی کی طرف بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نے پاہلگام حملے کے سلسلے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا، اور دہشت گردی کا الزام محض کشمیر کے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے لگایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 70 سال سے بھارتی تسلط میں موجود کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں کی کوششوں کی مخالفت کرتا رہا ہے، اور مسئلہ کشمیر ہی دونوں ممالک کے درمیان اصل تنازعہ ہے۔ ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان جنگ کا خواہشمند نہیں اور خطے میں پائیدار امن چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان غیر جانب دار مقام پر مذاکرات کی سہولت کاری کی پیشکش کی ہے، جسے پاکستان نے مثبت انداز میں لیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مذاکرات یکطرفہ نہیں ہو سکتے، بلکہ دونوں طرف سے سنجیدگی ضروری ہے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر کسی جرم کے تحت انہیں سزا دی گئی ہے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم پاکستان میں قومی تنصیبات پر حملے بھی غداری کے مترادف ہیں، جنہیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی 2014 کی دھرنا سیاست نے معیشت کو نقصان پہنچایا، اور 9 مئی کے واقعات میں ریاستی اداروں پر حملے کسی صورت سیاسی عمل نہیں بلکہ بغاوت تھے۔ ڈار نے عمران خان کی حکومت پر طالبان کو دوبارہ پاکستان میں منظم ہونے کا موقع دینے کا الزام بھی لگایا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات سے 30 سے 40 ہزار طالبان دوبارہ پاکستان میں داخل ہوئے، جس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ڈپٹی وزیراعظم سے ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہا اور عالمی و علاقائی امن میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا۔

اس حالیہ پیش رفت کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان طویل سفارتی تعطل کے بعد تعلقات کی بحالی کا ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جس کی ابتدا صدر ٹرمپ کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات سے ہوئی تھی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین