جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیتل ابیب اور حیفا میں ہزاروں افراد کا جنگِ غزہ کے خلاف...

تل ابیب اور حیفا میں ہزاروں افراد کا جنگِ غزہ کے خلاف مظاہرہ
ت

مقبوضہ فلسطين (مشرق نامہ) – تل ابیب میں ہزاروں افراد نے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی نسل کش جنگ کے خلاف مظاہرہ کیا، مظاہرین بھوکے فلسطینی بچوں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے۔

یہ مظاہرین جمعرات کے روز تل ابیب کے حبیمہ اسکوائر اور ملحقہ سڑکوں پر اکٹھے ہوئے اور جنگ کے خاتمے اور غزہ میں قید اسرائیلیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرے کے دوران بعض افراد نے اسرائیل کو غزہ میں جنگی جرائم اور نسل کشی کا مرتکب قرار دینے والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور فوجیوں سے اپیل کی کہ وہ اس جنگ میں شرکت سے انکار کر دیں۔

کئی مظاہرین کے ہاتھوں میں بھوکے فلسطینی بچوں کی تصاویر تھیں، ایک پوسٹر پر لکھا تھا کہ "انسانیت کے خلاف جرائم کی مخالفت کرو”۔

اسی دن حیفا شہر کی جرمن کالونی میں بھی ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا، جہاں پولیس نے مظاہرے کے آغاز کے صرف چند منٹ بعد ہی پوسٹر پھاڑتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کرنا شروع کیا اور 24 افراد کو گرفتار کر لیا۔

بعد ازاں، پولیس اہلکار مظاہرین کو زمین پر پٹختے، ہتھکڑیاں پہنا کر وین میں لے جاتے ہوئے دکھائی دیے۔

مظاہرے کے مقام سے لی گئی ایک ویڈیو میں ایک ہتھکڑی لگی خاتون صحافیوں کو چیختے ہوئے بتاتی ہیں کہ پولیس نے وین کے اندر کئی خواتین مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد اُسے بھی زبردستی پولیس وین میں دھکیل دیا جاتا ہے۔

یہ مظاہرہ غزہ میں جاری نسل کشی کے خلاف حیفا کے عرب شہریوں کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ان کئی مظاہروں میں سے ایک تھا، جن میں اکثر کی پاداش میں وسیع پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں۔

7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل نے غزہ پر ایک نسل کش جنگ مسلط کی، جس میں اب تک کم از کم 59,587 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ بدعنوانی کے مقدمات سے بچنے کے لیے غزہ کی جنگ کو طول دے کر اپنے سیاسی مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں۔

جنگ کے آغاز سے ہی نیتن یاہو کو اندرونِ ملک اور بیرونِ دنیا سے بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے جیسے اہم معاملات پر وہ کسی ٹھوس رعایت سے انکاری رہے ہیں۔

غزہ میں جاری عسکری جارحیت کو، جو عالمی اتحادیوں اور اندرونی ناقدین کی سفارت کاری اور تناؤ میں کمی کی اپیلوں کے باوجود جاری ہے، نیتن یاہو کی طاقت دکھانے اور اپنے سخت گیر اتحادیوں کو خوش کرنے کی حکمت عملی سمجھا جا رہا ہے۔

تاہم، اسرائیلی فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل نے حالیہ دنوں اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں شدید عسکری کمزوری اور اسٹریٹجک ناکامی کا شکار ہے اور وہاں کی صورتحال میں الجھ چکا ہے۔

میجر جنرل یتزحاق بریک، جو اسرائیلی فوج کے سابق سینئر افسر ہیں، نے اسرائیلی نیوز ویب سائٹ Arutz Sheva کے لیے ایک مضمون میں لکھا کہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جرنیلوں سے لے کر کمپنی کمانڈروں تک سب ہی اعتراف کر رہے ہیں کہ اسرائیل ‘آئرن سورڈز’ جنگ کے لیے تیار نہیں تھا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ حماس کے خلاف اسرائیلی مہم میں اس وقت تک اسرائیلی حکومت کو ایک اسٹریٹجک شکست ہو چکی ہے۔

گزشتہ مہینوں میں رائے عامہ کے جائزے بھی نیتن یاہو کی مقبولیت میں نمایاں کمی ظاہر کر رہے ہیں۔ سوگوار خاندانوں اور فوجی ریزرو فورسز کی جانب سے احتجاجی مظاہرے اب ہفتہ وار معمول بن چکے ہیں۔

یہاں تک کہ اسرائیلی آباد کار بھی نیتن یاہو پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ وہ قیدیوں کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ تل ابیب اور القدس میں "انہیں فوراً واپس لاؤ!” اور "مسئلہ بیبی ہے، حل نہیں” جیسے نعرے گونجنے لگے ہیں۔

بریک نے اسرائیلی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ جب تک اسرائیل غزہ میں دھنسا ہوا ہے، اس کی قیادت اگلے اور ممکنہ طور پر کہیں زیادہ خطرناک تنازعے کے لیے اپنی فوج کو تیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین