جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیفلسطین کو تسلیم کرنے پر روبیو کی فرانس پر تنقید

فلسطین کو تسلیم کرنے پر روبیو کی فرانس پر تنقید
ف

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)–
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فرانسیسی فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جسے انہوں نے "غیرذمہ دارانہ” اور امن کے مقصد کے لیے "نقصان دہ” قرار دیا۔

یہ فیصلہ جمعرات کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے سامنے آیا، جو یورپی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی کی علامت ہے اور فلسطین کے معاملے پر امریکہ اور اس کے روایتی اتحادیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کو مزید نمایاں کرتا ہے۔

روبیو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر اجلاس میں فرانسیسی منصوبے کو باقاعدہ شکل دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر ذمہ دارانہ اقدام صرف حماس کے پروپیگنڈے کو تقویت دیتا ہے اور امن کے عمل کو پیچھے دھکیلتا ہے۔ یہ 7 اکتوبر کے متاثرین کے منہ پر طمانچہ ہے۔

فرانس کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی عالمی تحریک زور پکڑ رہی ہے۔ اب تک تقریباً 140 ممالک فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں یا اس کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔ فرانس پہلا جی-7 ملک اور یورپی یونین کی سب سے بااثر طاقت ہوگا جو فلسطین کو تسلیم کرے گا۔

صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی فرانسیسی فیصلے پر سخت ردعمل دیا، اسے "دہشت گردی کا انعام” اور "ایرانی پراکسی” کے لیے راہ ہموار کرنے والا اقدام قرار دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ موجودہ حالات میں فلسطینی ریاست ایک ایسی بنیاد بنے گی جو "اسرائیل کو نیست و نابود کرنے” کے لیے استعمال کی جائے گی، نہ کہ امن سے ساتھ رہنے کے لیے۔

تاہم فرانسیسی اقدام کو عرب اور یورپی رہنماؤں کی طرف سے بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔ سعودی عرب نے اسے "تاریخی” فیصلہ قرار دیتے ہوئے دیگر ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ اسی راہ پر چلیں۔ اردن نے اسے "صحیح سمت میں ایک قدم” قرار دیا جو دو ریاستی حل اور قابض نظام کے خاتمے کی جانب پیش رفت ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے سینئر عہدیدار حسین الشیخ نے فرانس کے فیصلے کو "بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے عزم” کا مظہر قرار دیا۔ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے بھی فیصلے کو سراہا اور کہا کہ یہ "ہماری مظلوم قوم کے لیے انصاف کی سمت ایک مثبت قدم ہے۔”

اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز، جن کی حکومت پہلے ہی فلسطین کو تسلیم کر چکی ہے، نے بھی فرانس کے فیصلے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر اُس چیز کا تحفظ کرنا ہے جسے نیتن یاہو تباہ کرنا چاہتا ہے۔

سانچیز نے ایک بار پھر دو ریاستی حل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

فرانس ناروے، آئرلینڈ اور اسپین کے ساتھ شامل ہو گیا ہے جو باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ اب تک صرف نو یورپی یونین کے ممالک نے ایسا کیا ہے، اس تناظر میں فرانس کا فیصلہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر اس کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہونے کے باعث۔

صدر میکرون کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ پر جاری جنگ کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور خطے کی بیشتر آبادی قحط اور فاقہ کشی کا شکار ہے۔ میکرون نے کہا کہ آج سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ غزہ کی جنگ رُکے اور شہری آبادی کو بچایا جائے۔

برطانیہ میں وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں سے انسانی بحران پر ہنگامی رابطہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی ہمیں فلسطینی ریاست کے قیام اور ایک ایسا دو ریاستی حل فراہم کرے گی جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے امن اور سلامتی کی ضمانت دے۔

انہوں نے غزہ کی صورتحال کو "ناقابل بیان اور ناقابل دفاع” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ قتل عام کو روکنے اور قحط کے شکار عوام تک فوری امداد پہنچانے کے لیے فوری اقدام کرے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین