واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف صنعت کار ایلون مسک کے ساتھ حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ارب پتی کاروباری شخصیت کی کمپنیوں کو ختم کرنا نہیں چاہتے بلکہ چاہتے ہیں کہ وہ "ترقی کریں”۔
ٹرمپ کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب رواں ماہ کے آغاز میں مسک کی جانب سے ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام اور ٹرمپ کے "خوبصورت مگر مہلک” ٹیکس بل پر شدید تنقید کے بعد دونوں سابق اتحادیوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔ مسک نے خبردار کیا تھا کہ یہ ٹیکس بل امریکا کو دیوالیہ کر دے گا۔
جمعرات کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں ایلون کی کمپنیوں کو تباہ کر دوں گا، اُن بڑی سبسڈیز کو ختم کر کے جو انہیں امریکی حکومت سے ملتی ہیں — یہ درست نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایلون اور ہمارے ملک کی تمام کمپنیاں ترقی کریں۔
مسک کا انکار: سبسڈی نام کی کوئی چیز نہیں
ایلون مسک نے سابقہ ٹوئٹر، موجودہ "ایکس”، پر جواب دیتے ہوئے انکار کیا کہ ان کی کمپنیوں کو کوئی حکومتی سبسڈی حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپیس ایکس نے ناسا کے معاہدے اس لیے جیتے کیونکہ ہم نے بہتر کام کم پیسوں میں کیا۔ اگر یہ معاہدے کسی اور ایرواسپیس کمپنی کو دیے گئے تو خلانورد زمین پر پھنس جائیں گے اور ٹیکس دہندگان کو دوگنا قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
اگرچہ مسک بارہا سبسڈی کے خلاف بات کر چکے ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیسلا کو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں (EVs) اور قابلِ تجدید توانائی سے متعلق منصوبوں پر ٹیکس کریڈٹ اور مالی مراعات کی صورت میں نمایاں حکومتی فائدہ حاصل رہا ہے۔
ٹرمپ کا قانون: EV مراعات کا خاتمہ
صدر ٹرمپ کی جانب سے رواں سال دستخط شدہ قانون کے مطابق، 30 ستمبر سے نئی برقی گاڑیوں کی خریداری یا لیز پر دی جانے والی $7,500 ٹیکس چھوٹ، اور استعمال شدہ EVs پر $4,000 کی رعایت ختم ہو جائے گی — جو براہِ راست ٹیسلا کی مارکیٹ کشش کو متاثر کر سکتی ہے۔
مسک نے حالیہ دنوں میں ٹیسلا سرمایہ کاروں کو خبردار کیا تھا کہ اگر حکومتی مراعات میں کمی آئی تو کمپنی کو آئندہ چند سہ ماہیوں میں "مشکل وقت” کا سامنا ہو سکتا ہے۔
تنازع کی بنیاد اور اسپیس ایکس کے معاہدے پر سوالیہ نشان
جون میں مسک کی طرف سے ٹرمپ کے ٹیکس اور اخراجاتی بل کی سخت مذمت کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے جوابی کارروائی کے طور پر مسک کی کمپنیوں کے ساتھ موجودہ وفاقی معاہدوں کو منسوخ کرنے کی دھمکی دی تھی۔
یاد رہے کہ مسک مئی میں حکومتی مشاورت سے علیحدہ ہو گئے تھے تاکہ وہ اپنے نجی کاروباری منصوبوں پر توجہ دے سکیں۔ اس سے قبل وہ وفاقی اداروں کے بجٹ میں کٹوتی اور سرکاری عملے میں کمی کی کوششوں میں سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔
بعد ازاں، رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے محکمہ دفاع اور ناسا کو ہدایت دی کہ وہ اسپیس ایکس کے اربوں ڈالر مالیت کے معاہدوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں، جسے "جوابی حکمت عملی” کی تیاری سمجھا گیا۔
یاد رہے کہ اسپیس ایکس، ٹرمپ کے مجوزہ $175 بلین "گولڈن ڈوم” میزائل دفاعی نظام کی تعمیر کے لیے ایک مرکزی امیدوار تصور کی جا رہی تھی۔
تاہم اب ذرائع کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس اس پروگرام کے لیے نئے شراکت داروں کی تلاش میں ہے، جو مسک کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا عکاس ہے — اور اسپیس ایکس کی مستقبل میں اس پروگرام پر اجارہ داری کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

