ہیگ (مشرق نامہ) – جمعرات کے روز نیدرلینڈز بھر میں ہزاروں افراد نے مختلف بڑے ریلوے اسٹیشنز پر دھرنے دے کر اسرائیلی نسل پرست ریاست کی جانب سے جاری غزہ کے محاصرے اور وہاں پیدا ہونے والے سنگین انسانی بحران کے خلاف احتجاج کیا۔
ایمسٹرڈیم کے مرکزی اسٹیشن پر 1,500 سے زائد مظاہرین جمع ہوئے، جب کہ روٹرڈیم کے سینٹرل اسٹیشن پر لگ بھگ 1,000 افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم لہرائے اور برتن، پلیٹیں اور چمچے بجا کر احتجاج کیا — یہ علامتی انداز غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی کے نتیجے میں مسلط کی گئی بھوک کو ظاہر کرتا ہے، جہاں خوراک اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت ہے۔
درجنوں دیگر شہروں — ہیگ، یوٹریخت، لیدن، گروننگن، اینسخدی، ایندھوون، ایمرسفورٹ، آسین اور ڈین بوش — میں بھی سینکڑوں افراد نے مربوط احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا۔ مظاہرین نے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی ریاست کے "وحشیانہ سلوک” کی مذمت کی۔
مظاہروں کی تنظیم اور مطالبات
یہ احتجاج ڈچ انسانی حقوق کی تنظیموں نے منعقد کیے، جن کی قیادت "فلسطینی کمیونٹی اِن نیدرلینڈز” (PGNL) نے کی۔
مظاہرین میں تقسیم کیے گئے پمفلٹس میں شرکاء سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ وزیر خارجہ کاسپر ویلڈکیمپ سے اسرائیلی ریاست پر پابندیاں عائد کرنے، اسلحے کی فراہمی بند کرنے، اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ اور مستقبل کے مظاہروں میں بھرپور شرکت کا مطالبہ کریں۔
ایمسٹرڈیم کی میئر کا جرأت مندانہ بیان
ایمسٹرڈیم کی میئر فیمکے ہالسما نے بھی مہم میں شمولیت اختیار کی اور شہری کونسل اور مقامی عوام کے جذبات کی نمائندگی کی۔ اپنے ایک سخت بیان میں انہوں نے ڈچ حکومت سے اسرائیلی مظالم کے خلاف واضح مؤقف اپنانے کا مطالبہ کیا۔
ہالسما نے کہا کہ ہم یورپ کی اس خاموشی پر شرمندہ ہیں، جب کہ فلسطینی ڈاکٹر زمین پر گر رہے ہیں، آخری صحافی بھوک کے سبب اپنا کام نہیں کر سکتے، بچے مر رہے ہیں اور مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلانے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب فلسطینی بچ جانے والی تھوڑی خوراک حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر تشدد کیا جاتا ہے، اور بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے — ایسے میں ہماری حکومت اور پارلیمنٹ خاموش ہیں۔
انہوں نے قومی قیادت پر زور دیا کہ وہ نیدرلینڈز کی خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق کے دعووں کو عملی جامہ پہنائے۔
عالمی امدادی اداروں کا انتباہ اور بیداری
یہ مظاہرے ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب 100 سے زائد عالمی امدادی تنظیموں نے اسرائیلی حملوں کو روکنے اور غزہ میں انسانی امداد کی رسائی یقینی بنانے کے لیے فوری بین الاقوامی اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے مشترکہ بیان میں ان تنظیموں نے خبردار کیا کہ یہاں تک کہ امدادی کارکن بھی قحط اور بمباری کے شکار ہو چکے ہیں، کئی افراد کو اس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ خوراک پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
تنظیموں نے کہا کہ غزہ کے اندر اور باہر گوداموں میں ہزاروں ٹن خوراک، پانی، طبی سامان، پناہ کی اشیاء اور ایندھن موجود ہیں — لیکن انہیں تقسیم کرنے سے روکا جا رہا ہے۔
قتلِ عام کی جاری لہر
صرف جمعرات کے روز اسرائیلی حملوں میں مزید 100 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 34 ایسے تھے جو امداد کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔
اقوام متحدہ کے مطابق، اسرائیلی افواج نے گزشتہ مہینوں میں خوراک کے مراکز پر 1,000 سے زائد شہریوں کو گولی مار کر شہید کیا ہے۔
اکتوبر 2023 میں امریکا کی پشت پناہی سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد سے اب تک 59,580 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ 1,43,500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

