صنعاء (مشرق نامہ) – انقلاب یمن کے قائد، سیّد عبدالملک بدرالدین الحوثی نے اپنے تازہ خطاب میں واضح کیا ہے کہ ہم اس وقت دو متوازی راستے دیکھ رہے ہیں: ایک اسرائیلی دشمن کا، جو انتہا درجے کی جارحیت و درندگی پر ہے، اور دوسرا عرب و اسلامی دنیا کے اندر، جہاں امت کو فلسطینی عوام کی حمایت سے روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر عرب دنیا کا منفی، خاموش اور ساز باز پر مبنی مؤقف دیگر اسلامی ممالک کے رویوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کی حمایت کرنے والوں کے خلاف دشمنی پر مبنی موقف اس دور کی بدترین اخلاقی پستی اور فطری اقدار سے کھلی غداری کی علامت ہے، جس کے سنگین نتائج ہوں گے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بڑے عرب حکمرانوں کی ایران سے دشمنی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ایران فلسطینی عوام کی حمایت کرنے کا ’گناہ‘ کرتا ہے — بلکہ ان سے بڑھ کر کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑے عرب حکمرانوں کی سمت بالکل الگ ہے — وہ یہ یقینی بناتے ہیں کہ کوئی بھی فلسطینی کاز کے ساتھ مخلصانہ اور سنجیدگی سے کھڑا نہ ہو۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی راستہ، جو بے مثال جرائم اور جارحیت سے بھرا ہے، امریکا کی پشت پناہی کے ساتھ فلسطینی مسئلے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات پر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ عرب اور اسلامی دنیا کے حالات میں جو متوازی راستہ موجود ہے، وہ امت کو سُست اور مفلوج بنانے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی اسرائیلی دشمن اپنی جارحیت، جبری بے دخلی اور تباہی کو بڑھاتا ہے، امت کو مزید زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے اور پیچھے دھکیلا جاتا ہے۔
’امن‘ کے نام پر ہتھیار ڈالنے کی سازش
سیّد عبدالملک الحوثی نے کہا کہ ایسے دشمن کے ساتھ امن، جو اتنا درندہ صفت اور مجرم ہو، جبکہ وہ امت کے کسی حق کو تسلیم نہ کرتا ہو، محض ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان اور شام میں جو کچھ اسرائیلی دشمن کر رہا ہے، اس کے باوجود بعض عرب حکومتیں ’امن‘ کی بات کرتی ہیں تاکہ امت کسی ردعمل یا مؤقف سے باز رہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ دشمن قتل کرتا ہے، تباہی مچاتا ہے، بے دخل کرتا ہے، پھر ہماری امت کو درس دیتا ہے کہ ’حرکت نہ کرو، ہم تو امن کے حامی ہیں!‘
ان کا کہنا تھا کہ دشمن اپنے اقدامات کے ساتھ ساتھ کھلے عام اعلان کرتا ہے کہ وہ کبھی فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرے گا۔” انہوں نے وضاحت کی کہ امن، معمول سازی اور شکست کو تسلیم کرنے کی یہ زبان درحقیقت اسرائیلی ایجنڈے کو پورا کرتی ہے۔ دشمن امن کا نہیں، بلکہ فلسطینی مسئلے کے مکمل خاتمے کا خواہش مند ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے عرب حکومتوں کی میڈیا مہمات ان لوگوں کو نشانہ بناتی ہیں جو فلسطین کی حمایت کرتے ہیں — انہیں مسخ کیا جاتا ہے، ان پر شبہات پیدا کیے جاتے ہیں، اور بدنام کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے عرب حکومتیں اسرائیلی اور امریکی منطق کو صرف عربی زبان میں اپناتی ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بہت سے عرب ممالک میں فلسطین کی حمایت میں کسی بھی عوامی سرگرمی پر پابندی ہے، اور اگر کوئی احتجاج ہوتا ہے تو اسے دبا دیا جاتا ہے۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض عرب حکومتیں مغرب کی تقلید میں اسرائیل پر تنقید کو ’یہود دشمنی‘ کے بہانے سے ممنوع قرار دیتی ہیں۔ بعض عرب اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کے کسی بھی اظہار کو جرم بنانے پر تُلے ہوئے ہیں — یہ محض خاموشی نہیں بلکہ دشمن کی کھلی خدمت ہے۔
حماس کو غیر مسلح کرنے کا احمقانہ مطالبہ
سیّد عبدالملک الحوثی نے کہا کہ سب سے بدترین اور احمقانہ مطالبوں میں سے ایک یہ ہے کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے — یہاں تک کہ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے بھی۔ یہ یا تو بے عقلی ہے یا اسرائیل کے ساتھ ملی بھگت کا ثبوت۔
انہوں نے کہا کہ منطقی اور منصفانہ مؤقف تو یہ ہونا چاہیے کہ اسرائیلی دشمن کے پاس کوئی ہتھیار نہ ہو — نہ کہ اس کے پاس دنیا کا مہلک ترین اسلحہ موجود ہو۔
انہوں نے کہا کہ لبنان میں بعض سیاسی قوتیں، جن کا اسرائیل سے ماضی میں تعلق رہا، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حزب اللہ کے ہتھیار لبنان کی خودمختاری کے محافظ ہیں۔ انہیں غیر مسلح کرنا دشمنوں کی خدمت ہے — یہ بے وقوفی، لغویت اور بدنیتی پر مبنی منطق ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ جب اسرائیلی-امریکی دشمن ہمارے عقیدے اور وجود پر حملہ آور ہو، تو ہم کیوں غیر مسلح ہوں؟ وہ ہم پر حملہ کریں اور ہم ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیں تاکہ آسان شکار بن جائیں؟
انہوں نے تاریخ سے سبق سیکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، انہیں نسلی صفایا، ذلت اور قتل و غارت کا سامنا کرنا پڑا۔ صبرا و شتیلا کا قتل عام اس وقت ہوا جب فلسطینی مزاحمت کار غیر مسلح ہو چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کی بدترین قتل و غارت گری کب ہوئی؟ جب فلسطینیوں کے پاس کافی اسلحہ نہیں تھا، ابتدائی عسکری تیاری کا فقدان تھا، اور عرب-اسلامی حمایت سے محروم تھے۔
فلسطینی مزاحمت کی استقامت
قائد نے کہا کہ غزہ میں مجاہدین کی ہیروانہ استقامت جاری ہے — بے مثال جرات کے ساتھ۔ اسرائیلی دشمن خود اعتراف کر رہا ہے کہ وہ غزہ میں شدید بحران کا شکار ہے — عسکری نقصان، نفسیاتی دباؤ، فوجیوں کی کمی، اور ریزرو فوجیوں کا فرار۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی استقامت درست راستے کی دلیل ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ غزہ میں اجتماعی بھوک دشمن کی فوجی طاقت کی نہیں بلکہ اس کی خوفناک مجرمانہ ذہنیت کی عکاس ہے۔
انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ عزالدین القسام بریگیڈز نے تقریباً 15 مختلف کارروائیاں کیں — گھات لگا کر حملے، دشمن کی گاڑیوں کو تباہ کرنا، اور صہیونیوں کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔ القدس بریگیڈز نے بھی اہم کارروائیاں کیں۔
انہوں نے غزہ کے مزاحمتی گروہوں کے درمیان "وحدت اور باہمی تعاون کے جذبے” کو "غیر معمولی اور فیصلہ کن” قرار دیا۔
فریڈم فلوٹیلا اور عالمی موقع
سیّد عبدالملک الحوثی نے "فریڈم فلوٹیلا کے 36ویں علامتی سفر” کا ذکر کیا، جس کا مقصد غزہ کا محاصرہ توڑنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ مسلمانوں کے لیے ایک تاریخی موقع ہے — اگر وہ اس حقیقت کو سمجھ لیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں اس وقت فلسطینی حقوق اور اسرائیلی مظالم کو جتنا اعتراف حاصل ہے، اتنا پہلے کبھی نہ تھا۔ اسرائیل، امریکا اور ان کے یورپی اتحادی بے نقاب ہو چکے ہیں۔ اگر مسلمان چاہیں تو وہ اس موقع کو غنیمت جان کر خطرات کو پیچھے دھکیل سکتے ہیں۔
انہوں نے عرب و اسلامی حکومتوں کے "شرمناک اور کمزور مؤقف” پر تنقید کی کہ وہ تو بنیادی یکجہتی تک میں بھی ناکام ہیں، جب کہ دنیا کے دوسرے کنارے کے ممالک فلسطین کی حمایت کر رہے ہیں۔
الازہر کا شرمناک مؤقف
قائد نے "الازہر کی طرف سے اسرائیلی جرائم کی مذمت کے بیان کی واپسی” کو "افسوسناک اور شرمناک سیاسی تابع داری” قرار دیا۔
انہوں نے ان "مذہبی علماء” پر بھی تنقید کی جو کھلے عام غزہ کی حمایت سے روک رہے ہیں — جبکہ یہی افراد ماضی میں شام اور عراق میں جھوٹے ’جہاد‘ کی ترغیب دیتے رہے۔

