جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیامدادی بحری جہاز "حنظلہ" سے رابطے بحال، غزہ مشن جاری

امدادی بحری جہاز "حنظلہ” سے رابطے بحال، غزہ مشن جاری
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– مختصر وقت کے لیے رابطے منقطع ہونے کے بعد امدادی جہاز "حنظلہ” نے غزہ کے لیے اپنا انسانی مشن دوبارہ جاری کر دیا ہے۔

فریڈم فلوٹیلا کولیشن (FFC) نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ امدادی مشن پر روانہ ہونے والے جہاز "حنظلہ” سے مواصلاتی رابطے دو گھنٹوں کی معطلی کے بعد بحال ہو گئے ہیں۔ اس دوران جہاز کے قریب ڈرونز کی موجودگی دیکھی گئی، جس سے ممکنہ حملے یا روک تھام کے خدشات پیدا ہوئے۔

کولیشن، جو اس فلوٹیلا مشن کی نگرانی کر رہی ہے، نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ جہاز اب غزہ سے محض 349 ناٹیکل میل (646 کلومیٹر) کی دوری پر ہے اور حالیہ خطرات کے باوجود اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔

کولیشن نے کہا کہ تقریباً دو گھنٹوں تک فریڈم فلوٹیلا کے جہاز سے رابطہ منقطع رہا، جبکہ جہاز کے قریب ڈرونز دکھائی دیے، جس سے ممکنہ حملے کا شدید خدشہ پیدا ہوا۔

یہ بلیک آؤٹ اس وقت پیش آیا جب کولیشن نے پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کر رکھا تھا کہ "اسرائیل” کی جانب سے الیکٹرانک مداخلت یا جامنگ کے ذریعے رابطہ منقطع ہو سکتا ہے۔ جہاز پر سوار کارکنان اس دوران مکمل الرٹ حالت میں رہے کیونکہ بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں مسلسل جہاز کے گرد منڈلاتی رہیں۔

ایک ابتدائی بیان میں کہا گیا تھا کہ حنظلہ کے عملے سے تمام مواصلاتی رابطے جام کر دیے گئے ہیں۔
کولیشن نے اس واقعے کو گزشتہ خطرات کی یاد دہانی قرار دیا، جن میں امدادی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات شامل ہیں۔

اسٹارلنک کی بندش سے رابطے متاثر

کارکن "تن صفی” نے بلیک آؤٹ کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں بتایا کہ عملے کو ایلون مسک کے اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سسٹم کی عالمی بندش کا علم نہیں تھا۔
چند ماہرین اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اسے غیر معمولی قرار دے رہے ہیں، صفی نے کہا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ایلون مسک نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کیا ہو، لیکن غالباً یہ ایک عالمی سطح کی خرابی تھی۔

اسٹارلنک نے عالمی سطح پر عارضی کنیکٹیویٹی کے مسئلے کی تصدیق کی، جو چند گھنٹوں میں حل کر لیا گیا۔

"اسرائیل” فریڈم فلوٹیلا کو غزہ پہنچنے سے روکنے کی سابقہ تاریخ رکھتا ہے۔ مئی میں، (MV Conscience) نامی جہاز کو مالٹا کے قریب ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جون میں، "مدلین” (Madleen) نامی جہاز کو "اسرائیلی” بحری افواج نے روک لیا اور اس پر سوار 12 کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

"حنظلہ” نے اطالوی بندرگاہ گلی پولی (Gallipoli) سے روانگی اختیار کی تھی، اور اس پر 21 افراد سوار ہیں جن میں چھ امریکی شہری بھی شامل ہیں۔

مزاحمت کی علامت: کارکن، اداکار جیکب برگر

امریکی اداکار اور کارکن جیکب برگر، جو اس جہاز پر موجود ہیں، نے قبل ازیں المیادین کو بتایا تھا کہ فلوٹیلا کا مقصد اسرائیلی محاصرہ توڑنا اور دیگر ممالک کو بھی ایسی کوششوں کی ترغیب دینا ہے۔
اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو یہ دوسروں کے لیے ایک تحریک بنے گا کہ وہ فلسطینی عوام کے حق میں کھڑے ہوں، برگر نے کہا۔

کولیشن نے روانگی سے قبل بھی سازشوں اور مشن کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کی نشاندہی کی تھی، اور یہ بھی واضح کیا کہ خطرات کے باوجود جہاز پر موجود عملے کا حوصلہ بلند ہے۔

"حنظلہ” مسلسل نگرانی اور خطرات کے سائے میں اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ محصور غزہ کے عوام کے لیے امید اور بنیادی امداد بھی لے کر جا رہا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین