مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– الحدیث نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کے مشیر برائے فلسطینی امور، اوفر برونسٹین نے کہا ہے کہ اگر ایک خودمختار فلسطینی ریاست پہلے ہی قائم ہو چکی ہوتی تو 7 اکتوبر کا واقعہ پیش نہ آتا۔ اُنہوں نے اسرائیلی نشریاتی ادارے "کان” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس مؤقف کا اظہار کیا اور فرانسیسی حکومت کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔
اوفر برونسٹین نے کہا کہ گزشتہ چالیس برسوں سے عالمی برادری دو ریاستی حل پر متفق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب لوگ چالیس سال سے دو ریاستی حل کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کو بھی سختی سے مسترد کیا جن میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کو دہشتگردی کی حمایت قرار دیا گیا ہے۔ برونسٹین نے کہا کہ یہ کہنا کہ ہم دہشتگردی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، مجھے غصہ دلاتا ہے۔ حملہ فلسطینی ریاست کے بغیر ہوا، اور شاید اسی لیے ہوا کیونکہ ایسی ریاست قائم نہ ہو سکی۔
اوفر برونسٹین، جو مشرق وسطیٰ سے متعلق فرانسیسی سفارتی کوششوں میں قریبی طور پر شامل رہے ہیں، نے واضح کیا کہ میکرون حکومت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کو خطے میں خونریزی روکنے کی ایک ناگزیر سفارتی حکمت عملی سمجھتی ہے۔
فرانس کا یہ فیصلہ اس یورپی رجحان کا حصہ ہے جس میں فلسطین کو خودمختار ریاست تسلیم کرنے کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ برونسٹین کے بیانات فرانسیسی صدر کی فلسطین پالیسی کے دفاع کا حصہ ہیں، جسے اسرائیلی حکام اور بعض مغربی اتحادیوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
اسرائیلی سیاسی حلقوں نے فرانس کے اس اقدام کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ "کیپا” نے اسے اسرائیل کے لیے "ایک سنگین سفارتی دھچکا” قرار دیا، جب کہ نائب وزیراعظم و وزیر انصاف یاریو لیوین نے اسے "فرانسیسی تاریخ پر ایک بدنما داغ” کہا۔
سابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ7 اکتوبر کے قتل عام کے بعد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا سفارت کاری نہیں بلکہ اخلاقی زوال ہے۔
میکرون: فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ فرانس جلد ہی ریاستِ فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جاری انسانی المیے پر عالمی غصہ بڑھ رہا ہے۔
میکرون نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ فرانس یہ باضابطہ اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ستمبر اجلاس میں کرے گا۔ اُنہوں نے لکھا کہ آج کی سب سے فوری ضرورت یہ ہے کہ غزہ میں جنگ بند ہو اور شہری آبادی کو بچایا جائے۔
یاد رہے کہ جنگ کے آغاز میں میکرون نے اسرائیل کی حمایت کی تھی، تاہم غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کے تناظر میں اب ان کا مؤقف بدلتا جا رہا ہے۔
میکرون نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے اپنے تاریخی عزم کی روشنی میں، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔ امن ممکن ہے۔
فرانسیسی صدر نے فلسطینی صدر محمود عباس کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے جس میں اس فیصلے سے انہیں مطلع کیا گیا ہے۔
فرانس کے اس اقدام کے بعد وہ یورپ کا سب سے بااثر اور طاقتور ملک بن جائے گا جس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔ دنیا بھر کے 140 سے زائد ممالک، جن میں یورپ کے ایک درجن سے زیادہ ممالک بھی شامل ہیں، پہلے ہی فلسطین کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کر چکے ہیں۔

