جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیایران اور یورپی ممالک میں جوہری مذاکرات، اسنیپ بیک پابندیوں کا خدشہ...

ایران اور یورپی ممالک میں جوہری مذاکرات، اسنیپ بیک پابندیوں کا خدشہ برقرار
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– ایران اور یورپی طاقتوں کے درمیان جمعے کے روز استنبول میں جوہری مذاکرات ہوئے، جن کا پس منظر "اسرائیل” کی جانب سے ایران پر جون میں کیے گئے حملے اور "اسنیپ بیک” پابندیوں کی ممکنہ بحالی کا خطرہ ہے۔

ایرانی سفارتکاروں نے جرمنی، فرانس اور برطانیہ (جنہیں مجموعی طور پر E3 کہا جاتا ہے) کے نمائندوں سے استنبول میں ایرانی قونصل خانے میں ملاقات کی، جو کئی گھنٹے جاری رہی۔ یورپی وفود کو دوپہر 2 بجے سے کچھ قبل عمارت سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔ دونوں جانب سے ملاقات کے نتائج پر فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

یہ ملاقات جون کے وسط میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد ایران اور یورپی فریقوں کے درمیان پہلا براہِ راست رابطہ تھا۔ ان حملوں میں ایران کے کئی اعلیٰ سائنسدان اور فوجی کمانڈر مارے گئے تھے، اور ان کی وجہ سے ایران اور امریکہ کے درمیان 15 جون کو طے شدہ چھٹے دور کے مذاکرات بھی ملتوی ہو گئے تھے۔

22 جون کو امریکہ نے بھی ان حملوں میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے فردو، اصفہان اور نطنز میں ایرانی جوہری تنصیبات پر مربوط حملے کیے۔ ان واقعات کے بعد ایران نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (IAEA) کے ساتھ تعاون معطل کر دیا اور ایجنسی پر جانبداری اور حملوں پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔

یورپ کا دباؤ، اسنیپ بیک پابندیوں کی ڈیڈ لائن قریب

یورپی فریق (E3) نے ایران پر دباؤ ڈالتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کے تحت اقوام متحدہ کی معطل شدہ پابندیاں دوبارہ بحال کرنے کے لیے اسنیپ بیک میکانزم فعال کر سکتے ہیں۔ یہ اقدام اکتوبر تک ممکن ہے، جبکہ حتمی فیصلہ اگست کے اختتام تک متوقع ہے۔

ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، ایک یورپی سفارتی ذریعے نے کہا کہ E3 کی طرف سے غیر فعالیت کا کوئی آپشن نہیں۔ اس ذریعے نے تہران کو متنبہ کیا کہ مفاہمت کے لیے وقت کم رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کسی مذاکراتی حل کی عدم موجودگی میں پابندیاں بحال کرنے کے لیے تیار ہیں، اور ایران سے یورینیم افزودگی اور IAEA سے تعاون میں "لچک” دکھانے کا مطالبہ کیا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی، جو سینئر سفارتکار مجید تخت روانچی کے ہمراہ اجلاس میں شریک تھے، نے اس موقع پر کہا کہ پابندیوں کی دوبارہ بحالی "مکمل طور پر غیر قانونی” ہو گی۔ ان کے بقول، امریکہ کے 2018 میں معاہدے سے انخلا کے بعد یورپی فریقین نے JCPOA کی اپنی ذمہ داریوں کو ترک کر دیا ہے۔

غریب آبادی نے کہا کہ ہم نے انہیں نتائج سے خبردار کیا ہے، تاہم اب بھی ہم صورتِ حال کو سنبھالنے کے لیے مشترکہ نقطہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی اشارہ دے چکا ہے کہ اگر اسنیپ بیک پابندیاں بحال کی گئیں تو وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے علیحدہ ہو سکتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی یورینیم افزودگی کے معاملے پر ایران کے مؤقف کو دوٹوک انداز میں دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف غیر متزلزل ہے، اور افزودگی جاری رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افزودگی محض امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے وقتی طور پر رکی تھی، جس سے جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔

اسرائیلی و امریکی حملے، سفارتی عمل کی راہ میں رکاوٹ

اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے کھلے عام E3 سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسنیپ بیک پابندیاں نافذ کریں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی آئندہ حملے یا سفارتی تنہائی کی کوشش پر "سخت جواب” دیا جائے گا۔

جنگ کے بعد، ایران نے IAEA کے ساتھ اپنا تعاون مکمل طور پر روک دیا، یہ کہتے ہوئے کہ ایجنسی نے "اسرائیل” کے اقدامات کی مذمت نہیں کی۔ اس کے نتیجے میں ایجنسی کے معائنہ کار ملک چھوڑ گئے۔

ایرانی حکام کے مطابق، ایجنسی کے ساتھ مستقبل کا تعاون "نئے طریقہ کار” پر مبنی ہو گا، اور اگلے مراحل پر گفت و شنید کے لیے ایک تکنیکی وفد آئندہ ہفتوں میں ایران واپس آئے گا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین