جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیریزروسٹ فوجیوں کے اہل خانہ کی نفسیاتی مراکز میں ہجوم

ریزروسٹ فوجیوں کے اہل خانہ کی نفسیاتی مراکز میں ہجوم
ر

مقبوضہ فلسطين (مشرق نامہ) – "اسرائیل” میں تعلیمی اداروں سے وابستہ نفسیاتی معاونت کے مراکز میں دشمن ریزروسٹ فوجیوں کی بیویوں کی آمد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ انکشاف منگل، 22 جولائی 2025 کو "اسرائیلی” ویب سائٹ "والا” پر شائع ہونے والی "اسرائیل ٹراما کوالیشن” [ITC] کی ایک رپورٹ میں کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران تعلیمی سال کے دوسرے نصف حصے میں ان مراکز کے دوروں کی تعداد 690 سے بڑھ کر 2,816 تک پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق، یہی رجحان تعلیمی اداروں کے ملازمین اور نام نہاد ‘عرب برادری’ میں بھی ریکارڈ کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق، انتظامی عملے کی جانب سے ان مراکز کے دورے تین گنا بڑھ گئے—1,792 سے 5,413 تک۔ جبکہ "عرب برادری” میں یہ تعداد دگنی ہو کر 3,157 سے 6,422 ہو گئی۔

اسی دوران، سماجی و جغرافیائی طور پر پسماندہ علاقوں میں ان دوروں کی تعداد 6,159 سے بڑھ کر 11,365 ہو گئی۔ اکیڈمک عملے کی جانب سے دورے 4,957 سے بڑھ کر 8,753 تک جا پہنچے، جبکہ بے گھر افراد کی جانب سے دورے 10,774 سے بڑھ کر 15,251 ہو گئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ریزروسٹ فوجی خود بھی نفسیاتی معاونت کے لیے کہیں زیادہ بڑی تعداد میں رجوع کرنے لگے۔ سال کے پہلے نصف کی نسبت یہ شرح 41 فیصد زیادہ رہی—12,922 سے بڑھ کر 16,806 تک۔ ہریدی برادری [الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں] میں یہ اضافہ اور بھی نمایاں رہا، جہاں یہ تعداد 1,416 سے بڑھ کر 2,112 ہو گئی۔

"والا” ویب سائٹ نے مزید لکھا کہ معاونت فراہم کرنے والے مراکز کو اس اچانک اضافے کی مکمل وجوہات کا یقین نہیں، تاہم ان کا خیال ہے کہ 13 جون سے شروع ہو کر تقریباً دو ہفتے جاری رہنے والے ‘رائزنگ لائن’ آپریشن—جو امتحانی سیزن کے آغاز کے ساتھ متوازی تھا—اس کا ایک ممکنہ سبب ہو سکتا ہے۔

اسرائیل ٹراما کوالیشن کی ڈائریکٹر جنرل، تالیا لیوانون نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران، ہم نے ریزروسٹ فوجیوں کی بیویوں کی جانب سے سکون اور غیرجانبدار معاونت حاصل کرنے کے لیے آنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا۔

لیوانون کے مطابق، یہ نئی رپورٹ ایک حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ ہمیں ریزروسٹ فوجیوں کی بیویوں—جو کہ ایک نوجوان طبقہ ہے، جن میں اکثر مائیں بھی شامل ہیں—کی جانب سے مدد کی بڑھتی ہوئی درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔

یہ چیلنجز ان کے ازدواجی تعلقات، بچوں کی پرورش اور ذاتی حوصلے جیسے شعبوں میں سامنے آ رہے ہیں۔ تعلیمی ادارے ملک بھر میں تمام طلبہ کو لچک فراہم کرنے والے مراکز کے ذریعے فوری اور پیشہ ورانہ ردعمل دینا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیوانون نے بات ختم کی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین