دل دہلا دینے والے بیانات بتاتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے بے دخل کیے گئے مہاجرین کو ایل سیلواڈور کی بدنامِ زمانہ سی سی او ٹی جیل کے اندر پرتشدد زیادتی، اذیت و سلوک، اور غیر انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
واشنگٹن پوسٹ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وہ مہاجرین، جنہیں امریکہ سے نکال کر اچانک ایل سیلواڈور بھیج دیا گیا، وہاں دہشت گردوں کے لیے بنائی گئی سی کوٹ (Terrorism Confinement Center – CECOT) جیل میں قید کیے گئے اور انہیں نہایت وحشیانہ سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔
جولیو گونزالیز جونیئر، جو 36 سالہ صفائی کرنے والے اور پینٹر ہیں، نے رضاکارانہ طور پر وینزویلا واپسی کی درخواست دی تھی اور ٹیکساس سے روانہ ہونے والے طیارے میں سوار ہوئے، مگر پرواز نے ایل سیلواڈور میں لینڈ کیا۔ گونزالیز اور دو دیگر افراد نے جب طیارے سے اترنے سے انکار کیا تو انہیں زبردستی اتارا گیا، ہتھکڑیاں پہنا کر گھسیٹا گیا، مارا پیٹا گیا اور طیارے سے دھکا دے دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، اس منظر پر فلائٹ کے عملے کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ ان افراد کو بعد ازاں بسوں میں بٹھا کر ایک وسیع و عریض سرمئی رنگ کی حراستی عمارت لے جایا گیا، جہاں گارڈز نے بندوق کی نوک پر ان سے زمین پر پیشانیاں ٹیکنے کو کہا۔
گونزالیز نے کہا کہ وہیں سے ہارر فلم کا آغاز ہوا۔
ان کے مطابق، ایک نقاب پوش اہلکار نے آتے ہی کہا کہ ایل سیلواڈور میں خوش آمدید ، کتے کے بچوں ۔وہ لوگ سی کوٹ پہنچ چکے تھے، جو کہ صدر نائیب بوکیلے کی حکومت کے تحت دہشت گردوں کے لیے بنایا گیا دنیا کا سب سے بڑا جیل کمپلیکس ہے۔
امریکی مالی معاونت، الزامات اور حقائق
رپورٹ کے مطابق، امریکی حکومت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے تحت سینکڑوں تارکین وطن کو حراست میں لینے کے لیے بوکیلے حکومت کو 60 لاکھ ڈالر فراہم کیے۔ ان افراد میں سے کئی، جن میں گونزالیز بھی شامل تھے، نہ صرف ایل سیلواڈور سے تعلق نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی موجود نہ تھا۔
سی کوٹ کے اندر کی اذیتناک زندگی
چار ماہ تک قید رہنے والے ان افراد نے بتایا کہ انہیں مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ گونزالیز نے کہا کہ گارڈز نے ان کی ہزاروں ڈالر کی جمع پونجی چھین لی، قانونی مشورے یا فون کال کی اجازت نہیں دی گئی۔ 23 سالہ جوئن سواریز کو بار بار ایک سیاہ عقوبت خانے "لا ایسلہ” لے جایا گیا جہاں اسے لاتیں ماری گئیں، مارا گیا اور گالیاں دی گئیں۔
22 سالہ آنخل بلانکو مارین کے مطابق، اسے اتنی زور سے مارا گیا کہ اس کا آدھا دانت ٹوٹ گیا۔ طبی امداد کی بارہا درخواست کے باوجود، ایک ماہ سے زائد عرصے تک کچھ نہ دیا گیا۔
یہ تینوں ان 252 وینزویلا کے باشندوں میں شامل تھے جنہیں گزشتہ ہفتے امریکہ اور وینزویلا کے درمیان معاہدے کے تحت رہا کر کے واپس بھجوایا گیا۔ اس معاہدے کے بدلے وینزویلا نے 10 امریکی شہریوں اور مستقل رہائشیوں کو رہا کیا۔
انسانیت سے گری ہوئی تذلیل
گونزالیز نے گھر واپس پہنچنے پر کہا کہ میں نے خود کو جانور جیسا محسوس کیا۔ حکام نے ہمیں دنیا کے خطرناک ترین مجرموں کی طرح برتا۔ انہوں نے ہمارے سر مونڈ دیے، گالیاں دیں اور ہمیں جانوروں کی طرح گھمایا۔
حکومتی ردعمل اور الزامات کی تردید
رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں مقیم میرِلینڈ کے باشندے کلما ابریگو گارسیا کے وکلاء کی جانب سے پیش کیے گئے الزامات اور تفصیلات بھی ان دعوؤں سے ملتی جلتی ہیں۔
امریکی محکمہ داخلہ (DHS) کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سی کوٹ کو "تقریباً 300 ٹرین ڈی اراگوا اور ایم ایس-13 کے دہشت گردوں” کو بھیجنے کے لیے استعمال کیا گیا، جو اب امریکی عوام کے لیے خطرہ نہیں رہے۔
DHS کی اسسٹنٹ سیکرٹری ٹریشیا مکلافلن نے کہا کہ میڈیا ایک بار پھر مجرمانہ گینگ ممبرز کی جھوٹی داستانوں پر مر مٹ رہا ہے۔ ہمیں ان کے متاثرین کے بارے میں زیادہ سننے کو نہیں ملتا۔
تاہم تینوں افراد نے کسی بھی گینگ سے تعلق کی تردید کی، اور امریکی یا سلواڈورین حکام نے ان کے خلاف کوئی شواہد بھی پیش نہیں کیے۔
آمد کے وقت غیرانسانی برتاؤ
تینوں افراد نے بتایا کہ جب وہ جیل پہنچے تو انہیں جھکے ہوئے دوڑنے کو کہا گیا، آنکھ سے آنکھ نہ ملانے کی ہدایت دی گئی، ہتھکڑیاں اتنی سخت تھیں کہ حرکت کرنا دشوار تھا۔ سواریز کے مطابق فرش خون سے بھرا ہوا تھا۔ انہیں گھٹنوں کے بل اکٹھا بٹھا دیا گیا۔ ایک شخص، جو خود کو جیل کا سربراہ بتا رہا تھا، نے کہا کہ یہ جہنم ہے — اور تم یہاں سے کبھی نہیں نکلو گے۔
قید کی وحشت ناک تفصیلات
قیدیوں کو 9 سے 15 افراد پر مشتمل تنگ سیلوں میں رکھا گیا، جہاں صرف دھاتی بینچیں تھیں۔ کچھ دیر کے لیے پتلی گدیاں دی گئیں، صرف تصاویر لینے کے لیے، پھر واپس لے لی گئیں۔ نہانے اور پینے کے لیے ایک ہی بالٹی استعمال ہوتی تھی۔
بلانکو نے بتایا کہ پہلے ہی دن قے آ گئی، کئی دنوں تک صاف کپڑے نہ ملے۔ کبھی کبھار صابن یا ٹوتھ پیسٹ دیا جاتا، وہ بھی بے قاعدگی سے۔
گونزالیز نے بتایا دن میں شدید گرمی اور رات کو سخت سردی ہوتی۔ بلانکو کے مطابق، سیل پیشاب اور سیور کی بو سے بدبو دار تھے۔
‘ہم دہشت گرد نہیں، مہاجر ہیں’
روزانہ صبح 4 بجے جگایا جاتا، صفائی صرف مخصوص وقت پر کی جا سکتی تھی۔ خلاف ورزی پر قیدیوں کو کرسی سے باندھ کر ڈنڈوں سے مارا جاتا۔ بلانکو نے بتایا کہ وہ دوسرے قیدیوں کی چیخیں سن سکتے تھے۔
اپریل میں بھوک ہڑتال کی کوشش کی گئی، جس پر ربڑ کی گولیاں اور پلاسٹک پیلٹ برسائے گئے۔ قانونی مشورے کی درخواست پر گارڈز نے کہا: "یہ لفظ یہاں نہیں بولا جاتا۔”
بطور احتجاج، قیدیوں نے خود کو دھاتی پائپوں سے کاٹا اور سفید چادروں پر خون سے لکھا کہ ہم دہشت گرد نہیں، ہم مہاجر ہیں۔
کھانے میں زیادہ تر روٹیاں اور پھلیاں دی جاتی تھیں۔ کبھی کبھار پین کیکس یا برگر بھی مل جاتے۔ باہر نکلنے کا کوئی میدان نہ تھا، صرف کونے والے سیلز میں دھوپ آتی تھی۔
بلانکو نے کہا کہ وقت کے ساتھ ہم سب کا خوف ختم ہو گیا، کیونکہ ہم پہلے ہی مردہ ہو چکے تھے۔
سی کوٹ کا عالمی امیج اور کلما ابریگو کا مقدمہ
سی کوٹ 2023 میں بنایا گیا، تاکہ بڑے گینگ ممبران کو قید کیا جا سکے۔ بہت کم لوگ وہاں سے نکلے ہیں اور مزید کم ہی بول پائے ہیں۔
کلما ابریگو، جو اب دوبارہ امریکی تحویل میں ہیں، ان کے وکلا کے مطابق، انہیں نو گھنٹے زمین پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ وینزویلا سے آنے والے افراد گینگ سے تعلق رکھتے ہیں، واشنگٹن پوسٹ کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان میں سے اکثر نے قانونی طور پر امریکہ میں داخلہ لیا تھا، اور امیگریشن قوانین کی پیروی کی تھی۔
ابریگو جیسے افراد کو قانونی تحفظ بھی حاصل تھا، جیسے کہ "ٹیمپریری پروٹیکٹڈ اسٹیٹس” یا عدالت کی جانب سے ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم۔
گونزالیز کی امریکہ آمد اور تلخ واپسی
گونزالیز بچپن میں بیس بال کے ابھرتے ہوئے کھلاڑی تھے اور اعلیٰ تربیتی اکیڈمیوں میں گئے۔ جوانی میں روزگار کی تلاش میں وہ امریکہ-میکسیکو سرحد پہنچے، کئی ماہ انتظار کے بعد انہیں اپریل 2023 میں قانونی طور پر امریکہ میں داخلہ ملا۔
انہیں حراست میں لے کر گینگ سے وابستگی کا الزام لگایا گیا، حالانکہ ان کا کسی بھی ملک میں مجرمانہ ریکارڈ نہ تھا۔ ایک سال بعد ICE نے انہیں ضمانت پر چھوڑ دیا، اور وہ صفائی اور رنگ و روغن کا کام کرنے لگے۔ انہوں نے پناہ کی درخواست دی، پھر واپس لی، دوبارہ کھولنے کی کوشش کی، اور بعد ازاں TPS کی درخواست دی۔ جب وہ اکتوبر میں آئی سی ای کے دفتر ٹمپا میں چیک ان کے لیے گئے تو دوبارہ گرفتار کر لیے گئے۔
انہوں نے رضاکارانہ طور پر وینزویلا واپسی کے کاغذات پر دستخط کیے، مگر 13 مارچ کو طوفان کے باعث پرواز منسوخ ہوئی۔ اگلے دن ان کے خاندان کو بتایا گیا کہ وہ جلد وینزویلا پہنچیں گے، مگر صبح 9 بجے سے ان سے کوئی رابطہ نہ ہو سکا۔
بعد ازاں خاندان کو ایک فہرست میں ان کا نام ملا — وہ ایل سیلواڈور بھجوا دیے گئے تھے۔
زندگی کی چوری، اذیت کا کھیل
گونزالیز کے مطابق، ان کی سب سے بڑی تکلیف یہ تھی کہ انہوں نے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی — 6400 ڈالر — جو انہوں نے کپڑوں میں چھپا رکھی تھی، وہ بھی چھین لی گئی۔
قیدیوں کو نہ ان کے قانونی حقوق بتائے گئے، نہ وکیل سے بات کرنے دی گئی۔ صرف دو بار ریڈ کراس آئی، جس نے انہیں گھر خط لکھنے دیے۔ وینزویلا کے قیدی، سلواڈورین قیدیوں سے کھانے کا تبادلہ کر کے باہر کی خبریں حاصل کرتے۔
قید کے آخری دنوں میں کچھ تبدیلیاں آئیں: بال کٹے، اچھے شیمپو اور ریزر دیے گئے، جیسے کہ رہا کرنے کا اشارہ ہو۔
گونزالیز نے کہا کہ انہوں نے ہمارے ساتھ ذہنی اور جسمانی طور پر کھیلا۔ یہ سب ناقابلِ بیان ہے۔

