جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیایران پر حملہ غلط فیصلہ، نتائج سنگین ہوں گے: سابق امریکی ایلچی...

ایران پر حملہ غلط فیصلہ، نتائج سنگین ہوں گے: سابق امریکی ایلچی رابرٹ مالے
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– ایران کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی رابرٹ مالے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری مراکز پر حملوں کے فیصلے کو ’’غلط آپشن‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے ’’ناقابلِ پیش گوئی‘‘ نتائج نکل سکتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو بدھ کے روز دیے گئے ایک انٹرویو میں رابرٹ مالی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ فوجی کارروائی کا انتخاب کئی حوالوں سے غلط فیصلہ تھا۔ اس سے مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوتا بلکہ اس سے ایسے کئی غیر متوقع حالات جنم لیتے ہیں جن سے ہم نہ صرف آنے والے دنوں اور ہفتوں بلکہ مہینوں اور برسوں تک دوچار رہیں گے۔ اس لیے میرے نزدیک یہ غلط راستہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں کو یہ گمان تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایرانی عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے، وہ غلط ثابت ہوئے ہیں، کیونکہ ان حملوں میں صرف جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ اسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور عام شہریوں کی جانیں بھی گئیں۔

مالے کے مطابق، ان کے کئی ایرانی-نژاد امریکی دوستوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان حملوں کے بعد ان میں حب الوطنی کا جذبہ اور زیادہ بڑھ گیا ہے۔

ایران پر اسرائیلی و امریکی حملے: پس منظر

13 جون کو اسرائیل نے ایران پر اچانک اور بلا اشتعال جارحیت کرتے ہوئے کئی سینئر فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنس دانوں کو ٹارگٹڈ حملوں میں شہید کر دیا، جس کے بعد ملک بھر میں 12 روزہ جنگ چھڑ گئی، جس میں کم از کم 1,062 افراد جان سے گئے۔

اس واقعے کے ایک ہفتے بعد امریکہ نے بھی اس جنگ میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ایران کی تین جوہری تنصیبات کو بمباری کا نشانہ بنایا، جو اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قوانین اور نیوکلیئر نان-پرافریریشن ٹریٹی (NPT) کی کھلی خلاف ورزی تھی۔

ایران نے اس کے جواب میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اہم اسرائیلی تنصیبات کے علاوہ قطر میں واقع امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے، العدید بیس کو بھی نشانہ بنایا۔

24 جون کو ایران کی کامیاب جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں امریکی و اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ رک گیا اور دشمن کی پیش قدمی کو مؤثر طور پر روکا گیا۔

دباؤ میں ایران پیچھے نہیں ہٹے گا: مالے

رابرٹ مالے نے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل نے ابتدائی طور پر 2015 کے جوہری معاہدے، جسے مشترکہ جامع لائحہ عمل (JCPOA) کہا جاتا ہے، کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر اس وقت وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ تاہم جب صدر ٹرمپ برسرِ اقتدار آئے تو اسرائیل کو زیادہ کامیابی ملی۔

ان کے مطابق، اسرائیل کو یہ گوارا نہیں تھا کہ ایران عالمی برادری خصوصاً یورپ اور ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ زیادہ معاشی روابط قائم کرے، اس لیے اس نے اس معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں کئی افراد یہ خیال کرتے رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے JCPOA سے علیحدگی اور اس کے بعد شروع کی گئی ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی ایران کو جھکنے پر مجبور کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ہم نے اکثر یہ غلطی کی کہ یہ سمجھ لیا کہ صرف پابندیوں کی دھمکی یا ان کا نفاذ کسی ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دے گا۔ یہی صدر ٹرمپ اور کئی دیگر افراد — بشمول بعض ڈیموکریٹس — کا ماننا تھا۔ ان کے خیال میں ایران صرف دباؤ کی وجہ سے اپنا سب کچھ چھوڑ دے گا۔ لیکن ایران اپنے سب سے اہم اثاثے صرف زبردستی کے باعث نہیں چھوڑے گا، اسے بدلے میں کچھ درکار ہوگا۔

میزائل پروگرام ہمیشہ ایران کی ترجیح رہا

سابق امریکی نمائندہ خصوصی کے مطابق ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام ہمیشہ سے اس کی دفاعی ترجیحات میں شامل رہا ہے، چاہے اس پر پابندیاں ہوں یا نہ ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ مسلط کردہ جنگ کے دوران امریکہ، خلیجی ریاستیں، یورپ اور روس سب عراق کے ساتھ تھے، جبکہ ایران تقریباً تنہا کھڑا تھا۔

مالے کے بقول، اسرائیل کے علاوہ، عراق اور افغانستان میں امریکی فوجی موجودگی بھی ایران کے لیے ایک مسلسل خطرہ بنی رہی ہے۔

خطے میں غیر ملکی افواج عدم استحکام کا سبب: ایران

ایرانی حکام متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ خطے میں اسرائیل کی خفیہ جوہری سرگرمیاں اور اس کے جنگی اقدامات کے علاوہ غیر ملکی افواج کی موجودگی بھی خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سیکیورٹی کا تحفظ خود کر سکتے ہیں اور انہیں اس مقصد کے لیے بیرونی مداخلت یا موجودگی کی ضرورت نہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین