لندن (مشرق نامہ) – برطانیہ کے درجنوں سابق سفیروں اور اقوامِ متحدہ میں خدمات انجام دینے والے سینئر سفارتکاروں نے وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں۔ ان کے بقول، یہ اقدام غزہ میں جاری "خونریز جمود” کو توڑنے کے لیے ایک بنیادی اور ضروری قدم ہو سکتا ہے۔
دی گارڈین کے مطابق، 30 سے زائد سابق برطانوی سفیروں اور 20 سے زیادہ اقوامِ متحدہ میں خدمات انجام دینے والے برطانوی سفارتکاروں نے ایک مشترکہ خط میں کہا ہے کہ عمل نہ کرنے کے نتائج نہایت گہرے، تاریخی اور تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اگر فلسطین کے مسئلے کو سیاسی حل کی طرف نہ لے جایا گیا، تو اسرائیل مستقبل میں بھی خطرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔
ان کے مطابق، صرف الفاظ کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات درکار ہیں۔
اسلحہ فروخت کی جزوی معطلی، تجارتی مذاکرات میں تاخیر اور محدود پابندیاں وہ دباؤ نہیں جس کی برطانیہ طاقت رکھتا ہے۔
خط میں فلسطین کو تسلیم کرنے کو "خونریز جمود توڑنے کا پہلا بنیادی قدم” قرار دیا گیا ہے۔
سفیروں میں کن ممالک کے سابق نمائندے شامل ہیں؟
بیان پر دستخط کرنے والوں میں افغانستان، بحرین، مصر، ایران، عراق، اردن، کویت، مراکش، پاکستان، قطر، شام اور ترکی جیسے ممالک میں تعینات برطانیہ کے سابق سفیر شامل ہیں۔
حکومتِ برطانیہ کا مؤقف اور امریکی دباؤ
برطانیہ کے موجودہ وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لامی نے اس سال کے آغاز میں کہا تھا کہ فلسطین کو یکطرفہ طور پر تسلیم کرنے کی حمایت نہیں کریں گے۔ ان کے بقول، جب ہمیں یقین ہوگا کہ فلسطینی ریاست کا قیام حقیقت کے قریب ہے، تب ہی ہم اس کی تسلیم کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ماہ فرانس نے فلسطین کو تسلیم کرنے کی تیاری کی تھی، جس پر وزیراعظم نیتن یاہو سخت پریشان ہوئے۔ فرانس اس مقصد کے لیے نیویارک میں 17 جون کو سعودی عرب کے ساتھ مل کر دو ریاستی حل پر اقوامِ متحدہ کی بڑی کانفرنس منعقد کرنے والا تھا۔
مڈل ایسٹ آئی کو ذرائع نے بتایا کہ فرانس اس کانفرنس میں برطانیہ کو بھی اپنے ساتھ فلسطین کو تسلیم کروانے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ تاہم، اسرائیل کے اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر نے برطانیہ اور فرانس کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے فلسطین کو تسلیم کیا تو اسرائیل مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو باقاعدہ ضم کر لے گا۔
اسی دوران، امریکی حکومت نے بھی برطانیہ اور فرانس کو خفیہ طور پر متنبہ کیا کہ وہ فلسطین کو یکطرفہ طور پر تسلیم کرنے سے باز رہیں۔ اس کے بعد، دونوں ممالک نے مبینہ طور پر یہ منصوبہ روک دیا، اور مذکورہ اقوامِ متحدہ کانفرنس بھی ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث جون کے وسط میں ملتوی کر دی گئی۔
چرچ آف انگلینڈ کی قیادت کی سخت مذمت
برطانیہ میں چرچ آف انگلینڈ کے عملی سربراہ آرچ بشپ آف یارک، اسٹیو کوٹریل نے اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کو "جارحیت کی جنگ” قرار دیتے ہوئے اسے "سنگین گناہ” سے تعبیر کیا۔
ان کے بقول:
غزہ میں روز بروز جو تشدد، قحط اور انسانیت سوز سلوک کیا جا رہا ہے، وہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے انتہائی قابلِ نفرت اور ناقابلِ برداشت شکل اختیار کر چکا ہے.
خدا کے نام پر، میں اس انسانی حیات اور وقار کے خلاف سفاکانہ حملے کے خلاف چیخ اٹھتا ہوں۔ یہ بین الاقوامی برادری کے ضمیر پر ایک داغ ہے، اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے 7 اکتوبر کے حماس حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تمام بے گناہوں پر ہونے والے حملے قابلِ مذمت ہیں، تاہم:
یہ جنگ اب محض دفاعی نہیں رہی، یہ اب جارحیت بن چکی ہے — یہ ایک سنگین گناہ ہے، اور اسے بند ہونا چاہیے۔
پارلیمنٹ میں ہتھیاروں پر پابندی کا مطالبہ
رواں ہفتے کے آغاز میں تقریباً 60 برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ اور لارڈز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی برآمدات پر مکمل پابندی عائد کی جائے، اور حکومت دفاعی لائسنسوں کے اجرا سے متعلق شفافیت اختیار کرے۔
انسانی المیہ: بھوک سے شہادتیں، امداد پر حملے
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، مارچ میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مکمل ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد سے 100 سے زائد فلسطینی — جن میں 80 بچے شامل ہیں — بھوک سے شہید ہو چکے ہیں۔ صرف پیر کے دن 15 افراد بھوک اور غذائی قلت سے جاں بحق ہوئے۔
اسی دوران، مئی سے اب تک قائم "غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن” کے امدادی مراکز پر، جو اسرائیلی فوج اور امریکی سیکیورٹی کنٹریکٹرز کے زیر انتظام ہیں، امداد کے حصول کی کوشش میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔
اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی بمباری سے 59 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 42 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

