دمشق (مشرق نامہ) – معرۃ مصرین کے قریب اسلحہ ڈپو میں دھماکہ، پانچ افراد جاں بحق، درجنوں خواتین و بچے زخمی، بچاؤ کارروائیاں جاری
ادلب کے شمالی علاقے معرۃ مصرین کے نزدیک جمعرات کی صبح ایک زوردار دھماکے نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ شہری جاں بحق اور 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ عینی شاہدین نے آسمان کی جانب بلند ہوتی ہوئی آگ کے شعلوں اور دھوئیں کے گھنے بادلوں کی اطلاع دی۔
شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق، دھماکہ ایک اسلحہ کے ذخیرے میں ہوا جس کے بعد یکے بعد دیگرے شدید نوعیت کے ثانوی دھماکے بھی سنے گئے۔ دھماکے کے وقت علاقے میں نامعلوم طیارے بھی پرواز کر رہے تھے۔ رصدگاہ کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔
ہسپتالوں پر دباؤ، معرۃ مصرین اسپتال میں 71 زخمی منتقل
ادلب کی محکمہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 100 سے زائد ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ صرف معرۃ مصرین اسپتال میں 71 زخمیوں کو منتقل کیا گیا، جس سے طبی سہولیات پر شدید دباؤ پڑ گیا ہے۔
دھماکے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری، مزید دھماکوں کا خطرہ
راعد الصالح، عبوری حکومت میں وزیرِ ہنگامی و آفات، نے ایک بیان میں کہا کہ شامی سول ڈیفنس کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور انخلائی کارروائیاں شروع کر دیں۔ انہوں نے بتایا کہ مزید دھماکوں کے خدشے کے باوجود امدادی کام جاری ہے۔
راعد الصالح کے مطابق، حتمی جانی نقصان کا اندازہ تاحال ممکن نہیں، کیونکہ امدادی ٹیمیں انتہائی خطرناک حالات میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے مقامی شہریوں کو علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
وجوہات تاحال نامعلوم، فضاء میں نامعلوم طیارے گردش کرتے رہے
شامی رصدگاہ اور عینی شاہدین دونوں نے تصدیق کی کہ دھماکے کے وقت فضا میں نامعلوم طیارے گردش کر رہے تھے، تاہم شامی سرکاری چینل الاخباریہ نے رپورٹ کیا ہے کہ دھماکے کی اصل وجہ اب تک واضح نہیں ہو سکی۔

