جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیہالینڈ میں کارکنان کا مصری سفارت خانے پر احتجاج، غزہ کی ناکہ...

ہالینڈ میں کارکنان کا مصری سفارت خانے پر احتجاج، غزہ کی ناکہ بندی پر شدید ردعمل
ہ

ایمسٹرڈیم (مشرق نامہ) – دی ہیگ میں مصری سفارت خانے کے دروازے زنجیروں سے بند، انیس حبیب نے مصر پر غزہ کو قحط میں دھکیلنے کا الزام لگا دیا

ہالینڈ میں سرگرم کارکنان نے غزہ کی محصور آبادی پر قحط اور اسرائیلی محاصرے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دی ہیگ میں قائم مصری سفارت خانے کے دروازے زنجیروں سے مقفل کر دیے۔

مصری نژاد کارکن انیس حبیب نے پیر کے روز سفارت خانے کے باہر ایک ویڈیو بنائی جس میں انہوں نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کو "بدطینت اور غدار” قرار دیا۔

انہوں نے سفارت خانے کے دروازے پر سائیکل کا تالا لگاتے ہوئے کہا کہ یہ علامتی اقدام مصر کی اس دعوے کے خلاف ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ رفح کراسنگ اسرائیل نے بند کر رکھی ہے اور مصر کے پاس اسے کھولنے کا اختیار نہیں۔

محاصرہ ان کی جانب سے ہے، میری طرف سے نہیں، حبیب نے کہا۔
میں یہاں اس وقت تک کھڑا رہوں گا جب تک پولیس نہیں آتی، کیونکہ میں یہ تالا نہیں کھولوں گا جب تک غزہ کا راستہ نہیں کھولا جاتا۔

بدھ کے روز متعدد ڈچ کارکنان نے اس عمل کو دہراتے ہوئے دوبارہ دروازے کو زنجیروں سے باندھا۔ پولیس نے دونوں مواقع پر تالے کاٹ دیے اور کارکنان کو عارضی طور پر حراست میں لے کر بعد ازاں بغیر کسی فردِ جرم کے رہا کر دیا۔

مصر کی ناکہ بندی اور قحط کی بڑھتی ہوئی تباہ کاری

2 مارچ سے جاری اسرائیلی محاصرے نے اقوام متحدہ اور اس کی پارٹنر تنظیموں کی انسانی امداد کی ترسیل کو مکمل طور پر روک دیا ہے، جس کے باعث 21 لاکھ غزہ کے باشندے قحط کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق، مارچ سے اب تک کم از کم 101 فلسطینی، جن میں 80 بچے شامل ہیں، بھوک اور غذائی قلت کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پیر کے روز ہی 15 فلسطینی بچوں کی موت بھوک کی وجہ سے ہوئی۔

اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی (UNRWA) کے مطابق، 6000 سے زائد امدادی ٹرک جن میں خوراک اور ادویات موجود ہیں، گزشتہ ساڑھے چار ماہ سے مصر اور اردن میں رکے ہوئے ہیں، لیکن اسرائیل نے اب تک انہیں غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔

بین الاقوامی کارکنان پر مصر میں تشدد، حراست اور ملک بدری

جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک، غزہ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں بین الاقوامی کارکنان کو مصر میں پرتشدد کارروائیوں، گرفتاریوں اور جبری ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ کارکنان 80 ممالک سے تعلق رکھنے والے 4,000 افراد پر مشتمل تھے جو اسرائیل کے مکمل محاصرے کو توڑنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے، مگر انہیں راستے ہی میں روک دیا گیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین