جمعہ, فروری 20, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی چھاپوں کے دوران دو فلسطینی نوجوان شہید

اسرائیلی چھاپوں کے دوران دو فلسطینی نوجوان شہید
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– مقبوضہ غرب اردن میں اسرائیلی افواج کے چھاپوں کے دوران دو فلسطینی کم عمر نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا۔ وفا نیوز ایجنسی کے مطابق، یہ واقعہ بیت لحم کے جنوب میں واقع شہر الخضر میں پیش آیا، جو غزہ پر اسرائیل کی جاری نسل کش جنگ کے تناظر میں مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری پرتشدد کارروائیوں کی تازہ کڑی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، صبح کے وقت شہید ہونے والے 15 سالہ احمد علی اسعد عشیرہ الصلاح اور 17 سالہ محمد خالد علیان عیسیٰ کی لاشیں اسرائیلی فوج نے قبضے میں لے لیں۔ فائرنگ کے نتیجے میں دو مزید کم سن بچے زخمی ہوئے۔

اسی اثنا میں اسرائیلی افواج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران کم از کم 25 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔ وفا نیوز ایجنسی کے مطابق، گرفتار شدگان میں الخلیل کے شمال میں واقع بیت امر سے 10، مغرب میں واقع اذنا سے 2، رام اللہ کے شمال میں دورا القری سے 3، رام اللہ شہر سے 1، مشرقی گاؤں المزرعہ الشرقیہ سے 5 اور نابلس شہر سے 4 افراد شامل ہیں۔

7 اکتوبر 2023 سے غزہ پر حملے کے آغاز کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جہاں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر گرفتاریوں، شہادتوں اور آبادکاروں کے حملوں کی خبریں آتی ہیں۔ یہ آبادکار، جنہیں اکثر اسرائیلی فوج کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے، فلسطینی شہریوں پر بلا روک ٹوک حملے کر رہے ہیں، ان کے مکانات اور زیتون کے باغات کو نذرِ آتش کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (OCHA) کے مطابق، مذکورہ مدت میں اسرائیلی افواج کے ہاتھوں مغربی کنارے میں کم از کم 948 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 204 بچے بھی شامل ہیں۔

2024 کے آغاز سے جون 2025 کے اختتام تک اسرائیلی آبادکاروں کے 2200 سے زائد حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں 5200 سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے۔ اسی عرصے میں، اسرائیلی فوجی کارروائیوں، آبادکاروں کے تشدد اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے گھروں کی مسماری کے نتیجے میں تقریباً 36 ہزار فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کیا گیا۔

بین الاقوامی تعلقات کے ماہر امجد ابو العز کے مطابق، مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملے اسرائیلی حکومت کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنا ہے۔ رام اللہ سے الجزیرہ کو دیے گئے بیان میں انہوں نے کہا کہ فلسطینی گھروں، گاڑیوں اور املاک کو نشانہ بنا کر اور فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کر کے اسرائیل فلسطینیوں کی زندگی اجیرن بنا رہا ہے تاکہ انہیں زمین چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکے۔

ان کے مطابق، ہم 700,000 سے زائد اسرائیلی آبادکاروں کی بات کر رہے ہیں، جن کے پاس اسلحہ ہے اور وہ اسرائیلی فوج کے متوازی ایک فوج کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

ادھر بدھ کے روز اسرائیلی پارلیمان نے ایک غیر پابند قرار داد کے حق میں 71 کے مقابلے میں 13 ووٹوں سے منظوری دی، جس میں "یہودیہ، سامریہ اور وادی اردن” — یعنی مقبوضہ مغربی کنارے — پر اسرائیلی خودمختاری لاگو کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ قرار داد قانونی طور پر نافذ العمل نہیں، تاہم یہ مستقبل میں اس مسئلے کو پارلیمانی ایجنڈے کا حصہ بنانے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

تحریک المجاہدین فلسطین نے اس قرار داد کو "خطرناک اشتعال انگیزی” قرار دیتے ہوئے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ یہ اقدام "عالمی برادری کی کھلی توہین” ہے اور اسرائیل کی جانب سے "فلسطینی زمین و قوم کے خلاف مجرمانہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی ایک سازش” ہے۔

یاد رہے کہ مغربی کنارہ، غزہ اور مشرقی القدس سنہ 1967 سے اسرائیلی قبضے میں ہیں، اور تب سے اب تک وہاں اسرائیلی بستیاں تیزی سے پھیل چکی ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور بعض اوقات خود اسرائیلی قوانین کے تحت بھی غیر قانونی شمار ہوتی ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین