مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے مطابق، کرنسی اسمگلنگ کے ذریعے ڈالر کے غیر قانونی بہاؤ کو روکنے کے لیے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اعلیٰ سطحی افسر میجر جنرل فیصل نصیر نے فوری کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، منگل کے روز ای سی اے پی کے اراکین اور میجر جنرل فیصل نصیر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ڈالر کی قیمت میں حالیہ اضافے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ای سی اے پی کے چیئرمین ملک بوستان نے اجلاس کے دوران بتایا کہ کرنسی اسمگلنگ مافیا ایک بار پھر سرگرم ہو گیا ہے اور غیر ملکی کرنسی، بالخصوص امریکی ڈالر، کو افغانستان اور ایران اسمگل کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ تیزی سے بڑھا۔
ملک بوستان کے مطابق، آئی ایس آئی کے اعلیٰ افسر نے اس صورتحال پر فوری ردعمل دیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں، خاص طور پر ایف آئی اے، کو ہدایت دی کہ وہ کرنسی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کریں۔ ان احکامات کے بعد خفیہ معلومات کی بنیاد پر مختلف شہروں میں چھاپے مارے گئے، جن کے نتیجے میں اسمگلنگ مافیا کا نیٹ ورک زیرِ زمین چلا گیا اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ 288.60 روپے سے کم ہو کر 288 روپے پر آ گیا، جب کہ انٹر بینک میں ریٹ 285 روپے سے گھٹ کر 284.80 روپے پر آ گیا۔
ملک بوستان نے اُمید ظاہر کی کہ اگر ایف آئی اے اور دیگر ادارے کرنسی اسمگلروں اور ہنڈی حوالہ آپریٹرز کے خلاف اسی انداز میں کارروائیاں جاری رکھیں، تو ڈالر کی قیمت میں مزید کمی ممکن ہے، جو پہلے 270 روپے تک اور پھر بتدریج 250 روپے تک آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق، ڈالر کی قیمت میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کو سختی سے روکا جائے اور منی چینجرز کی سرگرمیوں پر بھی کڑی نظر رکھی جائے۔

