جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیاقوام متحدہ میں فلسطین پر پاکستان کا مؤقف، اسحاق ڈار کا سلامتی...

اقوام متحدہ میں فلسطین پر پاکستان کا مؤقف، اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل سے خطاب
ا

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام پر جاری مظالم کو عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کئی دہائیوں سے قابض قوت کے جبر، نسلی امتیاز اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا شکار ہیں۔ غزہ میں پچھلے 22 ماہ سے جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ایک انسانی بحران نہیں بلکہ انسانیت کی مکمل تذلیل اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی بمباری میں اب تک 58 ہزار سے زائد فلسطینی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، جب کہ تعلیمی ادارے، اسپتال، پناہ گزین کیمپ اور اقوام متحدہ کے دفاتر تک محفوظ نہیں رہے۔ یہ سب ایک منظم طریقے سے بین الاقوامی قوانین کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ غزہ میں بھوک اور غذائی قلت کی صورتحال سنگین حد تک پہنچ چکی ہے، جہاں لاکھوں لوگ کئی کئی دن فاقوں پر مجبور ہیں۔ اسحاق ڈار نے اس صورت حال کو اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی قوانین کی ساکھ کا عملی امتحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ نہ کیا گیا تو یہ عالمی قانون کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دے گا۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے چھ اہم اقدامات پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا، جن میں غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی، انسانی امداد کی بلارکاوٹ رسائی، اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کی بحالی، فلسطینی زمینوں سے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ، غزہ کی تعمیر نو کا اسلامی اور عرب ممالک کی زیر نگرانی منصوبہ، اور دو ریاستی حل کا نفاذ شامل ہیں۔

وزیر خارجہ نے اعادہ کیا کہ پاکستان 1967 کی سرحدوں پر مبنی، القدس شریف کو دارالحکومت رکھنے والی ایک آزاد، خودمختار اور قابل عمل فلسطینی ریاست کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے ان ممالک سے اپیل کی جو تاحال فلسطین کو تسلیم نہیں کر سکے کہ وہ انسانی انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں۔ اسحاق ڈار نے سعودی عرب اور فرانس کی جانب سے 28 جولائی کو دو ریاستی حل پر منعقد کی جانے والی بین الاقوامی کانفرنس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے شام، لبنان اور یمن میں قیامِ امن کی کوششوں کی تائید کے ساتھ ساتھ اسرائیل سے گولان کی پہاڑیوں سے انخلا کا مطالبہ بھی دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ طاقت کا استعمال اور یکطرفہ کارروائیاں مسائل کا حل نہیں بلکہ ان میں مزید شدت پیدا کرتی ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینی عوام کو وہ حق دیا جائے جس سے وہ دہائیوں سے محروم ہیں — یعنی انصاف، آزادی، وقار اور ایک خودمختار ریاست کا حق۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان فلسطین کے عوام کے ساتھ یکجہتی میں ہمیشہ پیش پیش رہے گا اور ان کے جائز حقوق کے لیے عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔ یہی واحد راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین