مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)پاکستانی پاسپورٹ ایک مرتبہ پھر دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں شامل کر لیا گیا ہے، جو عالمی درجہ بندی میں نیچے سے چوتھے نمبر یعنی 96ویں درجے پر ہے۔ تازہ ترین ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2025″ کے مطابق، پاکستانی شہری صرف 32 ممالک میں بغیر ویزا یا آن ارائیول ویزا کی سہولت کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔ اس فہرست میں پاکستان کے ساتھ صومالیہ، یمن اور شام جیسے جنگ زدہ یا غیر مستحکم ممالک شامل ہیں، جو پاکستان سے بھی زیادہ محدود سفری آزادی رکھتے ہیں۔
اس انڈیکس میں جاپان، سنگاپور، فرانس، جرمنی اور اٹلی جیسے ممالک سرفہرست ہیں جن کے شہری 190 سے زائد ممالک میں بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی پاسپورٹ کی سفری سہولیات انتہائی محدود ہیں، جس کی بنیادی وجوہات میں ملکی سیکیورٹی صورتِ حال، خارجہ پالیسی کی ناکامی، اقتصادی غیر یقینی صورتحال، اور بین الاقوامی اعتماد میں کمی شامل ہیں۔
عالمی درجہ بندی میں نچلے درجے پر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی شہریوں کو زیادہ تر ممالک کے لیے ویزا حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، اور انہیں سخت دستاویزات، انٹرویوز اور لمبے پراسیس سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف عام مسافروں بلکہ طلبہ، کاروباری افراد اور پیشہ ور افراد کے لیے بھی رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔
حیران کن طور پر، گزشتہ برسوں کے مقابلے میں پاکستانی پاسپورٹ کی پوزیشن میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی، جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت کی جانب سے عالمی سطح پر سفارتی اثرورسوخ بڑھانے اور پاسپورٹ کی قدر میں اضافے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستان بین الاقوامی سطح پر ساکھ، امن، اور معیشت کو بہتر بنانے میں مؤثر اصلاحات نہیں لاتا، پاکستانی شہریوں کو سفری آزادی حاصل نہیں ہو سکے گی۔

