مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)پاکستان اور افغانستان نے تعلقات میں بہتری اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے آٹھ زرعی مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی ہے، جس کا مقصد تجارت کو سہل بنانا اور کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچانا ہے۔ اس معاہدے کے تحت افغانستان کی چار زرعی اشیاء، جن میں انگور، انار، سیب اور ٹماٹر شامل ہیں، پاکستان کو برآمد کی جائیں گی جبکہ پاکستان کی چار زرعی اشیاء، یعنی آم، کینو، کیلا اور آلو، افغانستان کو برآمد کی جائیں گی۔ ان اشیاء پر پہلے 60 فیصد سے زائد درآمدی ڈیوٹی لاگو تھی، جسے کم کرکے زیادہ سے زیادہ 27 فیصد کر دیا گیا ہے۔ معاہدہ یکم اگست 2025 سے مؤثر ہوگا اور ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے نافذ رہے گا، تاہم دونوں فریقین کی رضا مندی سے اس کی مدت میں توسیع اور مزید مصنوعات کی شمولیت ممکن ہے۔
یہ معاہدہ افغانستان کے قائم مقام نائب وزیر برائے صنعت و تجارت ملا احمد اللہ زاہد اور پاکستان کے سیکریٹری تجارت جواد پال کے درمیان طے پایا۔ اس تجارتی معاہدے کے تناظر میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ افغانستان کے وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی اگست کے پہلے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں، جس سے دوطرفہ سیاسی و اقتصادی تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔ اگر یہ دورہ عمل میں آتا ہے تو یہ نومبر 2021 کے بعد ان کا پہلا باضابطہ دورہ ہوگا۔ حال ہی میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کابل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے افغان قیادت سے مختلف باہمی امور، بالخصوص سلامتی اور سرحدی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
دوسری جانب، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بھی تعلقات میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ دونوں ممالک نے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے کہ سرکاری اور سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے شہری بغیر ویزا کے ایک دوسرے کے ملک کا سفر کر سکیں گے۔ اس پیش رفت کا اعلان پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے سرکاری دورۂ ڈھاکہ کے دوران کیا گیا، جہاں ان کی ملاقات بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جہانگیر عالم چوہدری سے ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران داخلی سلامتی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین تعاون، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کی روک تھام جیسے اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
فریقین نے فیصلہ کیا کہ دونوں ممالک کی پولیس فورسز ایک دوسرے کے تربیتی اداروں کا دورہ کریں گی اور تکنیکی مہارت میں اضافے کے لیے باہمی پروگراموں کا تبادلہ کریں گی۔ اس کے علاوہ ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی، جس کی قیادت پاکستان کی جانب سے سیکریٹری داخلہ خورم آغا کریں گے۔ مستقبل قریب میں بنگلہ دیش کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا، جہاں وہ نیشنل پولیس اکیڈمی اور سیف سٹی منصوبے کا جائزہ لے گا۔ یہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد، تعاون اور سفارتی گرمجوشی کی علامت ہیں، جن سے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کی نئی راہیں کھلنے کی توقع ہے۔

