جمعہ, فروری 20, 2026
ہومنقطہ نظرکربلا اور غزہ: جدوجہد اور قربانی میں حیرت انگیز مماثلتیں

کربلا اور غزہ: جدوجہد اور قربانی میں حیرت انگیز مماثلتیں
ک

تحریر: حمزہ اجمل جونپوری

اگر ہم ان دونوں کو بغور دیکھیں تو پائیں گے کہ کربلا اور غزہ میں حیرت انگیز مماثلتیں پائی جاتی ہیں—ان میں کوئی خاص فرق نہیں۔

کربلا میں رسول اللہؐ کے پاکیزہ اہل بیتؑ پر خوراک اور پانی بند کر دیا گیا؛ غزہ میں دیندار مسلمانوں پر یہی ظلم روا رکھا گیا ہے۔ کربلا میں یزیدی فوج نے ظلم و جبر کا سیاہ باب رقم کیا؛ غزہ میں اسرائیل نسل کشی کے خونی کھیل میں مصروف ہے۔ کربلا میں عبادت گزاروں پر ظلم ڈھایا گیا؛ غزہ میں مساجد اور نمازیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کربلا میں دریا قریب تھا، پھر بھی پانی چھین لیا گیا؛ غزہ سمندر کے کنارے ہونے کے باوجود پانی سے محروم ہے۔

کربلا میں کوفہ والوں نے عہد شکنی کی؛ غزہ میں عرب دنیا نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ مصر نے اپنی سرحد پر اونچی دیواریں کھڑی کر دیں؛ اردن نے سخت ناکہ بندی مسلط کر رکھی ہے۔ کربلا میں بچے، بوڑھے، اور جوان سب شہید کیے گئے؛ غزہ میں ہر عمر کے لوگ اسی طرح شہادت کے مناظر سے دوچار ہو رہے ہیں۔

تاریخ ایک بار پھر سانحۂ کربلا کو دہرا رہی ہے۔ جس طرح اہل بیتؑ پر اقتدار کی طلب کا جھوٹا الزام لگایا گیا، آج اسی طرح کے بے بنیاد الزامات غزہ کے مجاہدین پر لگائے جا رہے ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے: اگر کوئی کربلا کا منظر دیکھنا چاہے، تو غزہ کو دیکھ لے—سب کچھ واضح ہو جائے گا۔

جو لوگ یزید کی حمایت کیا کرتے تھے، وہی آج غزہ کے آزادی پسندوں کے خلاف کھڑے ہیں۔ جنہوں نے حسین ابن علیؑ کو موردِ الزام ٹھہرا کر یزید کو بری کرنے کی کوشش کی، وہی آج غزہ کے مجاہدین پر لالچ اور خود غرضی کے الزامات لگا رہے ہیں۔

کربلا اسلام کی اصل روح کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک قیام تھا؛ غزہ بھی اسلام کی شناخت کے تحفظ کی ایک جنگ بن چکا ہے۔ غزہ تباہ ہو رہا ہے، پھر بھی بڑی تعداد میں مسلمان مزاحمت کرنے والوں کے خلاف سرگرم ہیں۔

خدا کی قسم اور بلا جھجک میں اعلان کرتا ہوں: اگر یہ مجاہدین نہ ہوتے تو غزہ کا نام و نشان اب تک مٹ چکا ہوتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ پر پختہ ایمان کے ساتھ لڑتے ہیں اور اسرائیلی فوج کو خوف میں مبتلا کر کے منتشر کر دیتے ہیں۔ ہر انسان کو زندگی عزیز ہے، مگر صالح العاروری نے شہادت کا تحفہ قبول کر کے دنیا کو ثابت کر دیا کہ مزاحمت اب بھی زندہ ہے۔ اسماعیل ہنیہ کے پورے خاندان کو شہید کر دیا گیا، مگر انہوں نے صبر اور شکر کے ساتھ امام حسینؑ کی روح کو مجسم کر دکھایا۔

امام حسینؑ کا سچا پیروکار وہی ہے جو اسلام کی عزت کے لیے اپنی جان نچھاور کرے۔ یہی امام حسینؑ کا پیغام ہے—کہ اسلام کی بقا کے لیے سب کچھ قربان کر دیا جائے۔ غزہ اسی غیرت و استقامت کے راستے پر چل رہا ہے۔ سب کچھ تباہ ہو چکا ہے، مگر ان کا ایمان متزلزل نہیں ہوا۔ سچے مجاہد اب بھی میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں، جبکہ باطل راہ فرار تلاش کر رہا ہے۔

اسلام نے مسلمانوں کے لیے دو راستے متعین کیے ہیں—وہی جو اہل بیتؑ نے اختیار کیے: یا شہادت یا فتح۔ غزہ کے عوام نے بھی یہی شعار اپنایا ہے—یا شہادت یا فتح۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین