مقبوضہ فلسطين (مشرق نامہ) – اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال زامیر نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں مہینوں پر محیط فوجی کارروائی کے باوجود حماس کو فیصلہ کن شکست دینا ممکن نہیں ہو سکا، اور اسی پس منظر میں انہوں نے غزہ میں طویل المدت جنگ بندی کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔
گللوت فوجی اڈے پر منعقدہ اعلیٰ عسکری قیادت کے اجلاس میں جنرل زامیر نے 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ پر اپنی پہلی جامع بریفنگ دی، جس میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج مسلسل دو برس کی لڑائی کے بعد اب "عملیاتی وقفے” کی متقاضی ہے، کیونکہ طویل جنگی مہم نے فوج کی بحالی، اصلاحات اور مستقبل کی تیاریوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ اس طویل جنگی مہم نے اسرائیلی فوج (IDF) کی تعمیر نو اور جدید کاری کے منصوبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ اسرائیلی سیاسی قیادت نے 2025 کے اوائل میں کیا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ 2026 کو "تعمیرِ نو، تیاری اور جنگی صلاحیت کی بحالی” کا سال قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ مسلسل دوسرے سال بڑے پیمانے پر مشقیں، خصوصاً شمالی محاذ پر، نہیں ہو سکیں، جس سے فوج کی تیاری شدید متاثر ہوئی ہے۔
جنرل زامیر نے واضح کیا کہ غزہ میں جاری فوجی مہم کو 2025 کے اوائل میں سیاسی قیادت کی ہدایت پر جاری رکھا گیا، لیکن اب میدانِ جنگ سے موصول ہونے والے نتائج "غیر فیصلہ کن” ہیں۔
اسرائیلی فوج کی سالانہ جائزہ رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ یہ جنگ 1967 کی جنگِ استنزاف کے بعد اسرائیل کی سب سے طویل فوجی مہم بن چکی ہے، مگر اس کے باوجود حماس بدستور قائم ہے اور لڑنے کی صلاحیت سے محروم نہیں ہوئی۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اسرائیلی افواج "مورگ محور” سے واپس ہوئیں تو حماس دوبارہ ان علاقوں میں داخل ہو سکتی ہے، جن پر اسرائیل نے کنٹرول حاصل کیا تھا۔
جنرل زامیر، جنہوں نے مارچ 2025 میں آرمی چیف کا منصب سنبھالا، کا منصوبہ تھا کہ وہ فوج کے لیے ایک طویل المدت اصلاحاتی پروگرام نافذ کریں، لیکن غزہ میں دوبارہ آپریشن شروع ہونے کے باعث یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔
انہوں نے کھلے الفاظ میں کہا کہ واضح اسٹریٹجک وژن اور قومی اتفاقِ رائے کے بغیر جنگ جاری رکھنا فوجی اور سیاسی طور پر خطرناک ہے۔ انہوں نے غزہ میں فوجی اہداف اور طریقۂ کار کا ازسرِ نو جائزہ لینے پر زور دیا۔
اس اعلیٰ سطحی بریفنگ میں جنرل زامیر کا بیان نہ صرف عسکری ناکامی کا غیر معمولی اعتراف تھا، بلکہ اسرائیلی قیادت کے لیے یہ ایک کھلا پیغام بھی تھا کہ بغیر واضح سمت کے جنگی تسلسل نہ صرف فوج کی ساخت اور تیاری کو مفلوج کر رہا ہے، بلکہ ریاست کی مجموعی سلامتی پر بھی ایک سنگین سوالیہ نشان کھڑا کر چکا ہے۔

