غزه (مشرق نامہ) – فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ پر اسرائیلی محاصرے کو توڑنے اور وہاں جاری انسان ساز قحط کے خاتمے کے لیے ایک "تاریخی مؤقف” اپنائیں۔
منگل کے روز اپنے ٹیلیگرام چینل پر جاری بیان میں حماس نے کہا کہ غزہ میں قحط پانچ ماہ کے مکمل محاصرے کے بعد ایک خطرناک اور بے مثال مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
بیان کے مطابق اب تک غذائی قلت کے باعث تقریباً 100 شہری، جن میں 80 بچے شامل ہیں، جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ ہزاروں فاقہ زدہ شہری، جو امداد لینے کی کوشش کر رہے تھے، اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں شہید کیے گئے۔
حماس نے عرب و اسلامی دنیا کی "سرکاری خاموشی” پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی پالیسی اور بیانات "غزہ میں رہنے والے 22 لاکھ افراد کی ہولناک حالت سے کہیں کم درجے” کے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ مجرمانہ خاموشی نہ صرف ہمارے مظلوم عوام کو مایوس کرتی ہے بلکہ جنگی مجرم (اسرائیلی وزیر اعظم) نیتن یاہو کو بھوک اور نسل کشی کی پالیسی جاری رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
حماس نے مزید کہا کہ ہمارے عوام بھوک اور پیاس کا شکار ہیں، جب کہ امدادی سامان سے بھرے ہزاروں ٹرک رفح کراسنگ کے مصری جانب جمع ہیں۔ اس دوران قابض حکومت ایک مجرمانہ نظام کے تحت بھوک کو ہتھیار بناتے ہوئے قتل اور تذلیل کی پالیسی نافذ کیے ہوئے ہے۔
بیان کے اختتام پر حماس نے نومبر 2023 میں ریاض میں منعقدہ غیرمعمولی عرب-اسلامی سربراہی اجلاس کی قراردادوں پر عمل درآمد میں ناکامی پر بھی افسوس کا اظہار کیا، اور زور دیا کہ عرب و مسلم دنیا "تمام ممکنہ دباؤ کے ذرائع کو بروئے کار لا کر اسرائیلی محاصرہ توڑنے اور انسانی امداد کی فوری رسائی” کو یقینی بنائے۔

